خصوصی نمبر
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۳
آغاز کلام
پہلی بار جب میں ایک بڑے مدرسہ میں گیا تو اس کو دیکھ کر اچانک میری زبان سے نکلا۔ مدینۃ العلم (علم کا شہر)۔ ہر مدرسہ گویا علم کا ایک شہر ہے، اس واحد فرق کے ساتھ کہ ان میں سے کوئی بڑا شہر ہے اور کوئی چھوٹا شہر۔
دورِ اول میں جب مسلمان مختلف ملکوں میں پھیلے تو ہر جگہ انہوں نے اس قسم کے علمی شہر قائم کئے۔ یہ تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ تھا۔ قدیم زمانہ میں عمارت کے نام سے یا تو بڑے بڑے بت کَدے (Temples) بنائے جاتے تھے یا محل اور قلعے اور مقبرے۔ جدید معنوں میں تعلیم گاہیں بنانے کا کوئی رواج ہی قدیم زمانہ میں نہ تھا۔ ایک مغربی محقق نے بجا طور پر لکھا ہے کہ صد فی صد تعلیم (hundred percent literacy) کا تصور پہلی بار مسلمانوں نے تاریخ میں پیدا کیا۔ مسلمانوں کے اندر یہ علمی مزاج کہاں سے آیا۔ یہ براہ راست قرآن کا نتیجہ تھا۔ قرآن کو کھلے ذہن کے ساتھ پڑھا جائے تو معلوم ہوگا کہ قرآن میں سب سے زیادہ زور علم اور تعلیم و تعلم پر دیا گیا ہے۔ بلا مبالغہ کہا جاسکتا ہے کہ قرآن پہلی کتاب ہے جس نے علم کو محدود دائرہ سے نکالا اور تاریخ انسانی کو عمومی تعلیم (mass education) کے تصور سے آشنا کیا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ۵۷۰ء میں عرب کے شہر مکہ میں پیدا ہوئے۔ آپ پر پہلی وحی ۶۱۰ء میں اتری جب کہ آپ غار حرا میں تھے۔ وحی کا پہلا لفظ یہ تھا: اقرأ (پڑھ)۔ روایات میں آتا ہے کہ خدا کے فرشتہ جبرئیل نے آپ کے پاس آکر کہا کہ اقرأ (پڑھ) آپ نے فرمایا کہ : ما انا بقاری (صحیح البخاری، کتاب بدء الوحی) یعنی مجھے پڑھنا نہیں آتا۔ جبرئیل نے دوبارہ کہا کہ اقرأ۔ آپ نے فرمایا کہ ماانا بقاری۔ جبرئیل نے تیسری بار کہا کہ اقرأ۔ اس کے بعد آپ نے سورہ العلق کے وہ کلمات اپنی زبان سے دہرائے جو جبرئیل پہلی وحی کے طور پر آپ کے پاس لائے تھے۔
ابتدائی وحی کے اس واقعہ پر غور کیجئے ۔ پیغمبر اسلام ثابت شدہ طور پر ایک اّمی تھے۔ اس کے باوجود کیوں خدا کا فرشتہ بار بار کہہ رہا ہے کہ اقرأ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پڑھنا نہیں آتا تب بھی پڑھو۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues