Al-Risala · September 2000 · page 4

خصوصی نمبر

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۴

لکھنا نہیں جانتے تب بھی لکھو۔ اس اعتبار سے اسلامی کلچر گویأ اقرأ کلچر کا دوسرا نام ہے۔ یہ ایک انتہائی انقلابی تعلیم تھی جو پیغمبر اسلام ﷺ کو اور بالواسطہ طور پر آپ کے پیروؤں کو آغازِ رسالت میں اللہ کی طرف سے ملی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ علم آپ کے پیروؤں کی سرگرمی کا ایک مستقل حصہ بن گیا۔ پڑھنے اور لکھنے کا رواج اتنا بڑھا کہ وہ وقت آیا جب کہ مسلمان تمام قوموں کے معلم بن گئے۔ اہل اسلام جب عرب سے نکلے اور دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلے تو ہر جگہ انہوں نے پڑھنے اور پڑھانے کو اپنا خصوصی مشن بنا لیا۔ یہ لہر مکہ سے اٹھی۔ پھر وہ مدینہ پہنچی۔ اس کے بعد وہ دمشق پہنچی۔ اس کے بعد بغداد اور قاہرہ اس کا مرکز بنا۔ اس کے بعد وہ قرطبہ اور غرناطہ میں داخل ہو۔ وہاں سے مزید پھیل کر وہ سارے عالم میں پہنچ گئی۔ اس زمانہ میں مسلم دنیا کے تمام شہر تعلیم و تعلم کا مرکز بنے ہوئے تھے۔ اہل اسلام کے اسی مزاج کا نتیجہ تھا کہ جب ان کے قافلے برصغیر ہند میں داخل ہوئے تو یہاں بھی انہوں نے کثرت سے شخصی اور اجتماعی طور پر مدرسے اور تعلیم گاہیں قائم کیں۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ برصغیر ہند میں علم کی عمومی اشاعت بھی پہلی بار مسلمانوں کے ذریعہ ہوئی۔ پنڈت جواہر لعل نہرو نے اعتراف کیا ہے کہ عرب مسلمان انڈیا میں ایک شاندار کلچر (brilliant culture) لے کر آئے۔ (ڈسکوری آف انڈیا) انیسویں صدی عیسوی کے نصف اول میں جب برصغیر ہند میں انگریزوں کا غلبہ بڑھا تو اس کے ساتھ مسلم تعلیم گاہوں کا زوال شروع ہو گیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ انگریزوں کے خلاف ابتدائی سیاسی مزاحمت زیادہ تر علماء اسلام کی قیادت میں ہوئی تھی۔ اس سے انگریزوں نے یہ تصور قائم کیا کہ اسلامی مدرسے انگریز مخالف تحریک کے فکری مرکز ہیں۔ چنانچہ وہ مدارس کے دشمن ہو گئے۔ انہوں نے طرح طرح سے مدارس پر روک لگانے کی کوشش کی۔ مثلاً انہوں نے مدارس کی جاگیریں اور اوقاف ضبط کر کے ان کے ذرائع کو مسدود کر دیا۔ بہت سے علماء کو گرفتار کر لیا، وغیرہ۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ بڑی تعداد میں اس ملک کے مدارس بند ہو گئے۔

ہندوستان میں انگریزوں کے سیاسی قبضہ کے بعد ایک عرصہ تک مسلم رہنما یہ سوچتے رہے کہ پہلے انگریزوں کو ملک سے نکالو۔ اس کے بعد ہی اس ملک میں دوبارہ کسی دینی کام کے مواقع نکلیں گے۔ ۱۸۵۷ کا مسلح اقدام اسی طرز فکر کا نتیجہ تھا جو اپنے مقصد میں ناکام رہا۔ اس تجربہ کے بعد علماء نے محسوس

‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues

Printed page