Read

Al-Risala, September 2000

  1. p. 53 Al-Risāla
  2. p. 54 عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر، مولانا وحیدالدین خاں کے
  3. p. 2 خصوصی نمبر
  4. p. 3 آغاز کلام
  5. p. 4 لکھنا نہیں جانتے تب بھی لکھو۔ اس اعتبار سے
  6. p. 5 وارثِ انبیاء حسین احمد که بدیں مستعار مو تمن است
  7. p. 6 مدرسہ کی دنیا سے مسلسل میرا ربط رہا ہے۔
  8. p. 7 تاریخ تعلیم
  9. p. 8 زمانہ میں لکھنے پڑھنے کا رواج کافی بڑھ چکا
  10. p. 9 نے جب انسانیت کے درمیان تفریق و تقسیم کو
  11. p. 10 ولا لعجمی علی عربی ولا لاحمر علی اسود ولا
  12. p. 11 سے پہلے خواص کے دائرہ کی چیز بنا ہوا
  13. p. 12 دینی مدارس · علم کی اہمیت
  14. p. 13 قرآن ہی الہامی علم کے حقیقی نمائندہ کی حیثیت
  15. p. 14 سرچشمہ ہے جس طرح الہامی کتاب کا مطالعہ۔
  16. p. 15 تحریکِ مدارس کا آغاز
  17. p. 16 چیلنج کا مثبت جواب
  18. p. 17 ہندوستان دارالتعلیم ہے
  19. p. 18 تھا کہ اس نے متنوع قسم کے مثبت نتائج
  20. p. 19 گر ہمیں مکتب و ہمیں ملا کار طفلاں تمام خواہد شد
  21. p. 20 شریعت کی رہنمائی
  22. p. 21 طریقہ صرف ایک بے نتیجہ عمل کا نام ہے،
  23. p. 22 الاعمال أحب الى الله ؟ قال : أدومها وإن
  24. p. 23 پرامن میدانِ عمل
  25. p. 24 اس کے بعد انہیں حملہ آوروں سے غزوہ احزاب
  26. p. 25 علماء کا قائدانہ کردار
  27. p. 26 مگر ہندوستان میں برطانوی اقتدار قائم ہونے کے بعد
  28. p. 27 ملنا ممکن نہیں۔ اور یہ خود فطرت کے قانون
  29. p. 28 یہی وجہ ہے کہ یہ مدارس حقیقی اسلامی تبلیغ
  30. p. 29 پورا عمل ایک قسم کی لفظی کشتی بن جاتا
  31. p. 30 علم کا چشمہ رواں
  32. p. 31 میں ساری اہمیت ملازمت رخی تعلیم (job oriented education)
  33. p. 32 بعد کو انہوں نے علی گڑھ میں داخلہ لیا
  34. p. 33 رامپور کے زمانہ قیام میں مولانا صدر الدین اصلاحی
  35. p. 34 فوائد و برکات · علم دین کا تسلسل
  36. p. 35 کتابوں تک رسائی
  37. p. 36 رسائی ممکن نہیں، جب کہ علم کا ۹۹ فی
  38. p. 37 کے لئے میں وہاں موجود نہ تھا ان کو
  39. p. 38 سلائی ہاؤس
  40. p. 39 یہ مدارس میں تیار ہونے والے علماء ہی تھے
  41. p. 40 دینی ضرورتیں بھی۔ ان لوگوں نے ہندوستان میں بھی
  42. p. 1 کی براہ راست رسائی مذہبی کتابوں تک ہو سکتی
  43. p. 42 مسلمانوں کو بھی فائدہ پہنچنے لگا۔
  44. p. 43 اور ہر قسم کی مشکلوں کے باوجود اس کو
  45. p. 44 شریک ہوتے جو سننے کے باوجود کچھ نہ سمجھتے۔
  46. p. 45 تحریک تھی۔ چنانچہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ
  47. p. 46 اچھے شہری
  48. p. 47 مگر آج کے ہندوستان میں ایسے ادارے موجود نہیں
  49. p. 48 اپنے دل میں ایک مت بجے۔ یہاں تک کہ
  50. p. 49 دینی مدارس کا امتیاز
  51. p. 50 ۱۔ غیر دینی درس گاہیں خواہ وہ ملک کے
  52. p. 51 اضافی قدر رکھتا ہے۔ یہ نظریہ اپنی آخری حد
  53. p. 52 وہ اس سے آگے نہ بڑھ سکا۔ چنانچہ نظریہ
  54. p. 53 اس نظریہ کا عملی تجربہ بتاتا ہے کہ وہ
  55. p. 54 کی بنا پر اس کمزوری سے پیشگی طور پر
  56. p. 55 مدرسہ کلچر
  57. p. 56 طرف چلنے لگا، اونٹ بھی اس کے پیچھے چلنے
  58. p. 57 اس جاہلی کلام میں حکمت کی باتیں کثرت سے
  59. p. 58 کہ اس حدیث میں دراصل یہ بتایا گیا ہے
  60. p. 59 تک جنگ کی شرط کا تعلق ہے تو وہ
  61. p. 60 تجربات کی روشنی میں
  62. p. 61 وہ انسانی شخصیت کا ارتقاء (personality development) ہے۔ تعلیم
  63. p. 62 (formative period) ہی میں اس کو مطالعہ اور استنباط
  64. p. 63 مدرسہ کا یہ واقعہ میرے لئے اتنا مؤثر ثابت
  65. p. 64 نے اپنے ایک شعر میں اس طرح نظم کیا
  66. p. 65 طرف جا رہا تھا جہاں جوتے اتارے جاتے تھے۔
  67. p. 66 ۴- مدرسہ کے زمانہ قیام کا ایک واقعہ بے
  68. p. 67 پر سیکولر تعلیم گاہوں میں پایا جاتا ہے۔
  69. p. 68 غیر سیاسی ایمپائر
  70. p. 69 کے تمام شعبوں سے جڑا ہوا ہے۔ اس طرح
  71. p. 70 اپنے مختلف پہلوؤں کے اعتبار سے سیاسی ایمپائر سے
  72. p. 71 دور کی تبدیلی
  73. p. 72 کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: فلا تخشوهم واخشون (المائدہ
  74. p. 73 کے کسی بھی حصہ میں پہنچا سکتے ہیں۔ پرنٹنگ
  75. p. 74 مدارس سنٹر
  76. p. 75 ثانی کی جاتی رہے۔ جیسا کہ سیکولر نظام تعلیم
  77. p. 76 قدیم "معتزلہ" کے خلاف ذہنی طور پر مسلح کرتا
  78. p. 77 اس سلسلہ میں یہاں میں اپنا ذاتی تجربہ بیان
  79. p. 78 اس قسم کے مختلف واقعات ہیں جن کے ذریعہ
  80. p. 79 اس سے صرف نظر کرنا کسی بھی طرح درست
  81. p. 80 مدارس قومی یکجہتی یا نیشنل فکرمید کرنے میں رکا
  82. p. 81 ایجنسی الرساله · ایجنسی کی صورتیں
  83. p. 82 Islam and Peace 150/- Introducing Islam 195/- The Moral
  84. p. 83 مولانا وحید الدین خاں شتم رسول کا مسئلہ قرآن
Printed page