تاریخ تعلیم
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۸
زمانہ میں لکھنے پڑھنے کا رواج کافی بڑھ چکا تھا۔ مگر جہاں تک تعلیم کا تعلق ہے اب بھی تعلیم کا انداز (pattern) بنیادی طور پر وہی باقی رہا جو ابتدائی دور میں تھا۔ اب غیر رسمی تعلیم کے علاوہ رسمی تعلیم کا رواج بھی شروع ہو گیا۔ مگر یہ تعلیم بنیادی طور پر اعلیٰ طبقہ اور اونچی ذات (higher castes) تک محدود رہی۔ باونچی ذات یا اونچے طبقہ میں دو قسم کے لوگ شریک سمجھے جاتے تھے۔ ایک، سردار اور امراء جو قبیلوں یا قوموں کے سیاسی لیڈر کی حیثیت رکھتے تھے، جو نظام سلطنت کے ذمہ دار تھے۔ دوسرا طبقہ وہ تھا جو مذہبی مراسم کی ادائیگی میں پیشوا (priests) کا کام کرتا تھا۔ وہ عبادت گاہوں کا نظام چلاتا تھا اور دوسرے خاندانی یا سماجی رسوم مثلاً نکاح یا دوسری تقریبات کو مذہبی اصولوں کے مطابق ادا کرتا تھا۔ ان اعلیٰ مذہبی اور سیاسی طبقوں کے علاوہ قوم یا قبیلہ کے دوسرے افراد کے لئے تعلیم کو ضروری نہ سمجھا جاتا تھا۔ بعض قوموں میں عام لوگوں کی تعلیم کا رواج بھی ملتا ہے مگر یہ تعلیم حقیقتاً حصول علم کے معنی میں نہ تھی۔ وہ زیادہ تر سماج کی عملی ضرورت کے معنی میں تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگ سماج کی روایات کو جانیں تاکہ وہ قائم شدہ سماج کے وفادار بن سکیں اور سماج انتشار سے بچارہے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ عوام یہ جانیں کہ اعلیٰ طبقہ کی ماتحتی میں انھیں کس طرح زندگی گزارنا چاہئے۔ (6/319-320) اس کے بعد تیسرا دور شروع ہوتا ہے جس کو حقیقی معنوں میں تعلیم و تعلم اور درس و تدریس کا دور کہا جا سکتا ہے۔ اس دور کا آغاز بنیادی طور پر اسلامی انقلاب کے بعد ظہور میں آیا۔ اس نئے دور کے آغاز کے لئے جو لازمی صورت حال درکار تھی وہ یہ کہ انسان اور انسان کے درمیان تفریق کا خاتمہ ہو ۔ اور اس تفریق کا خاتمہ صرف اسلام کے بعد ممکن ہوا۔ اسلام سے پہلے کا جو زمانہ ہے، اس وقت یہ حال تھا کہ انسانیت دو طبقوں میں بٹی ہوئی تھی___ اعلیٰ طبقہ (upper class) اور نچلا طبقہ (lower class) یا برتر نسل (superior race) اور کمتر نسل (inferior race) ۔ مثال کے طور پر چین میں بادشاہ کو آسمانی اولاد (Son of Heaven) کہا جاتا تھا۔ ہندوستان میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ کچھ لوگ اعلیٰ ذات (upper class) کی حیثیت رکھتے ہیں جو برہما کے سر سے پیدا ہوئے اور بقیہ لوگ درجہ بدرجہ اس کے نچلے دھڑ سے۔ تقریباً یہی حال دوسری قوموں اور ملکوں کا تھا۔ انسانیت کے درمیان اس تفریق و تقسیم کو پہلی بار اسلام نے ختم کیا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کو عام طور پر مورخین نے تسلیم کیا ہے۔ اسلام
‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues