Al-Risala · September 2000 · page 7

تاریخ تعلیم

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۷

تاریخ تعلیم

موجودہ زمانہ میں تعلیم (education) کی تاریخ پر کافی تحقیق کی گئی ہے اور اس موضوع پر کثرت سے کتابیں لکھی گئی ہیں۔ اس تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم کی تاریخ میں اسلام کا ایک بہت بڑا حصہ (contribution) ہے۔ اسلام نے معلوم تاریخ میں پہلی بار علم اور تعلیم کو محدود دائرہ سے نکال کر وسیع دائرہ تک پہنچایا۔ ساتویں صدی عیسوی کے رُخِ اول میں اسلام کا ظہور ہوا۔ اسلام سے پہلے علم صرف خواص کے دائرہ کی چیز بنا ہوا تھا۔ اسلام کے تحت آنے والے انقلاب کے بعد تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ علم کو خواص کے دائرہ سے نکال کر عوام کے دائرہ میں لایا گیا۔ توسیع تعلیم کی یہی انقلابی تحریک ہے جس کو تعلیم کی تاریخ میں "مدرسہ" کہا جاتا ہے۔

انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۴) میں تاریخِ تعلیم (History of Education) پر ۹۲ صفحہ کا ایک مفصل مقالہ شامل ہے۔ اس کو متعدد ماہرین تعلیم نے تیار کیا ہے۔ اس مقالہ میں تعلیم کی تاریخ کو چند ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، پہلا دور وہ ہے جس کو ابتدائی کلچر (primitive culture) کہا گیا ہے۔ اس ابتدائی دور میں تعلیم کا مقصد بنیادی طور پر یہ تھا کہ قبائلی روایات اور قبائلی اخلاقیات سے نئی نسل کو باخبر کیا جائے اور اس کے لئے اس کو تیار کیا جائے۔ اس زمانہ میں لکھنے پڑھنے کا رواج بے حد کم تھا۔ چنانچہ یہ قبائلی تعلیم بھی زیادہ تر زبانی طور پر دی جاتی تھی اور ان کو محفوظ رکھنے کے لئے نوجوانوں کو یاد کر لیا جاتا تھا۔

مزید یہ کہ اس تعلیم کا تعلق پورے قبیلہ سے نہ تھا بلکہ صرف اعلیٰ طبقہ سے تھا۔ اس اعلیٰ طبقہ میں بنیادی طور پر صرف دو قسم کے لوگ شامل ہوتے تھے۔ ایک، قبیلہ کے سردار اور امراء اور اعلیٰ طبقہ (upper class) کے نوجوان اور دوسرے، مذہبی پیشواؤں کا طبقہ (priestly class) جو لوگوں کو مذہبی رسوم و آداب کی ادائیگی میں مدد دیتا تھا۔ عام افراد اس تعلیمی نظام سے خارج سمجھے جاتے تھے (18-6/317 EB)۔

اس کے مطابق، دوسرا دور وہ ہے جس کو کلاسیکل کلچر کا نام دیا گیا ہے، یعنی قدیم تاریخی دور۔ اس

‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues

Printed page