Al-Risala · September 2000 · page 10

تاریخ تعلیم

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۱۰

ولا لعجمی علی عربی ولا لاحمر علی اسود ولا لاسود علی احمر الا بالتقوی۔ (مسند احمد ۴۱/۵) یعنی سنو، کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں۔ اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت نہیں اور کسی سرخ کو کسی سیاہ پر اور کسی سیاہ کو کسی سرخ پر کوئی فضیلت نہیں، مگر تقویٰ کی بنیاد پر۔ انسانی برابری کا یہ اعلان صرف اعلان نہ تھا بلکہ وہ ایک حقیقی عملی انقلاب کا مبنی فیشو تھا۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کو اللہ کی خصوصی مدد سے یہ موقع ملا کہ وہ انسانی مساوات اور اخوت کانہ صرف اصولی اعلان کریں بلکہ زمین کے وسیع رقبہ میں انقلاب برپا کر کے اس کو عملاً قائم کردیں۔ محققین نے عام طور پر تسلیم کیا ہے کہ انسانی مساوات کا عملی نظام تاریخ میں پہلی بار اسلام کے ذریعہ قائم ہوا۔ قدیم زمانہ میں علم اور تعلیم کا خواص کے دائرے میں محدود اور ہتا زیادہ تر انسانی عدم مساوات کی بنا پر تھا۔ جب نابرابری کا خاتمہ ہوا اور انسانی برابری کا دور آیا تو فطری طور پر وہ حالات پیدا ہو گئے جب کہ علم اور تعلیم کا دائرہ کسی مخصوص انسانی گروہ تک محدود نہ رہے، بلکہ وہ انسان کے تمام طبقوں تک پھیل جائے۔ اور اسلامی انقلاب کے بعد عملاً یہی پیش آیا۔ اسلام سے پہلے قدیم دور میں ہر جگہ بادشاہت (Kingship) کا نظام قائم تھا۔ کچھ لوگوں کو مطلق حکمران کا درجہ حاصل ہوتا تھا، اور بقیہ لوگوں کے لئے صرف یہ تھا کہ وہ ماتحت رعایا بن کر زندگی گزاریں۔ امتیاز پر مبنی اس سیاسی نظام نے علم اور تعلیم کو امر ا اور حکام کے دائرے کی چیز بنا دیا تھا۔ عوام کا اس میں کوئی حصہ نہ تھا۔

اسلام نے اس آمرانہ نظام کے برعکس جمہوری شورائیت (الشوریٰ ۳۸) کا تصور پیش کیا۔ اور اس کو عملاً قائم کیا۔ مؤرخ غین نے تسلیم کیا ہے کہ قدیم بادشاہت کے نظام کا خاتمہ اسلامی انقلاب کے ذریعہ ممکن ہوا۔ مثال کے طور پر فرانسیسی مؤرخ ہنری پرین (Henri Pirenne) نے لکھا ہے کہ اسلام نے اگر باز نطینی ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کو تو نہا نہ ہوتا تو دنیا سے شاید کبھی بھی سیاسی آمریت کا دور ختم نہ ہوتا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ قدیم بادشاہی نظام کا ٹوٹنا اور اس کی جگہ پر جمہوری یا عوامی دور کا دنیا میں آنا صرف اسلامی انقلاب کے بعد ممکن ہوا۔ اس انقلاب کے مختلف سماجی نتائج تاریخ میں ظاہر ہوئے۔ اس کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ انسانی سماج میں خواص دو عوام یا برتر طبقہ اور کمتر طبقہ کی تقسیم ختم ہو گئی۔ اس کے بعد عین اس کے فطری نتیجہ کے طور پر پڑھنے لکھنے کا رواج سارے انسانوں میں پھیل گیا، جو اس

‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues

Printed page