Al-Risala · September 2000 · page 11

تاریخ تعلیم

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۱۱

سے پہلے خواص کے دائرہ کی چیز بنا ہوا تھا۔

انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (1983) میں بتایا گیا ہے کہ اسلام کے ظہور کے بعد مدرسوں یا درسگاہوں کا پھیلاؤ (expansion) بڑے پیمانہ پر ہوا۔ ابتداء میں تعلیم کے حلقے قائم ہوئے پھر ہر مسجد کے ساتھ ایک مکتب اس کے لازمی جزو کے طور پر بننے لگا۔ پھر مزید اضافہ ہوا اور مسجدوں میں قائم ہونے والے مکتب ناکافی نظر آئے تو کثرت سے مستقل مدر سے قائم ہونے لگے۔ عباسی دور تک پہنچ کر یہ سلسلہ مزید آگے بڑھا۔ اب بہت بڑے بڑے جامعات (universities) قائم ہونے لگیں۔ مثال کے طور پر نظامیہ اور مستنصر یہ وغیرہ۔ (6/332-33)

خلاصہ یہ کہ اسلام سے پہلے مختلف توہمات (superstitions) نے انسانی سماج کو اونچے اور نیچے طبقوں میں بانٹ رکھا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ علم صرف اونچے طبقہ کے لئے مخصوص ہو گیا اور نچلے طبقہ کے لوگ ہزاروں سال تک جہالت میں پڑے رہے۔ ساتویں صدی میں ظاہر ہونے والے اسلامی انقلاب نے تاریخ میں پہلی بار ان توہمات کا خاتمہ کیا۔ اس نے انسانی زندگی کا نظام توہمات کے بجائے حقائق فطرت کی بنیاد پر قائم کیا۔ اس انقلاب کے جو مثبت نتائج ظاہر ہوئے اُنہیں میں سے ایک نتیجہ یہ تھا کہ علم خواص کے طبقہ سے نکل کر سارے انسانی گروہوں میں پھیل گیا۔

مدرسہ کا لفظ تعلیم کی تاریخ کا اسی طرح ایک مسلمہ حصہ بن چکا ہے جس طرح ایجوکیشن (education) کا لفظ انگلش ڈکشنری کا ایک مسلمہ حصہ ہے۔ انٹرنیٹ کو آج عالمی معلومات کا خزانہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر آپ اس سے جڑے ہوئے کمپیوٹر کے کی بورڈ پر مدرسہ (madrasah) کا لفظ ٹائپ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ اس کی اسکرین پر اچانک مدرسہ کے بارے میں معلومات کا ایک دفتر سامنے آگیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues

Printed page