Al-Risala · September 2000 · page 17

ہندوستان دارالتعلیم ہے

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۱۷

ہندوستان آیا۔ اس وقت یہاں برطانوی اقتدار قائم ہو چکا تھا۔ لارڈ میکالے نے حالات کا جائزہ لینے کے بعد ایک تعلیمی اسکیم بنائی۔ اسی اسکیم کی بنیاد پر اس کے بعد ہندوستان میں وہ نظام تعلیم جاری ہوا جس کو انگریزی نظام تعلیم کہا جاتا ہے۔ اس تعلیمی نظام کو جس مقصد کے تحت بنایا گیا تھا وہ خود میکالے کے الفاظ میں یہ تھا کہ تاکہ یہاں ایک ایسی نسل اٹھے جو کہ پیدائش کے اعتبار سے ہندوستانی اور فکر کے اعتبار سے انگریز ہو: So that a generation may arise, which is Indian in birth and English in thought. یہ بلاشبہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ مدارس دینیہ کی تحریک اصلاحی چیلنج کے جواب کے طور پر ظہور میں آئی۔ علماء کی اس تعلیمی اسکیم کا نشانہ لارڈ میکالے کے مذکورہ بیان کی روشنی میں بتایا جائے تو وہ غالباً یہ ہوگا کہ تاکہ یہاں ایک ایسی نسل اٹھے جو پیدائش کے اعتبار سے ہندوستانی اور اپنے فکر و خیال کے اعتبار سے مسلمان ہو۔

تاریخ بتاتی ہے کہ لارڈ میکالے کا منصوبہ کامیاب نہیں ہوا اور طلحہ ہند کا منصوبہ اللہ کی توفیق سے کامیاب رہا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج برصغیر ہند میں مسلمان اپنی دینی شناخت کے ساتھ پوری طرح موجود ہیں۔ مغربی تہذیب کا طوفان مسلمانوں کی ملی شناخت کو مٹانے میں کامیاب نہ ہو سکا، اور یہ زیادہ تر انھیں مدارس کا کارنامہ ہے جن کو علماء نے اپنی قربانیوں سے قائم کیا تھا۔

ہندوستان دارالتعلیم ہے

سب سے زیادہ مشکل کام فیصلہ کو بدلنا ہے۔ صحابی رسول خالد بن الولید نے غزوہ موتہ (۸ھ) کے موقع پر یہی جرأت مندانہ فیصلہ کیا تھا۔ ہندوستانی علماء نے انیسویں صدی کے وسط میں اسی عظیم سنت کو دہر لیا۔ جیسا کہ معلوم ہے شاہ عبدالعزیز دہلوئی نے ۱۸۲۳ء میں یہ فتویٰ دیا کہ ہندوستان دارالحرب ہو چکا ہے۔ اس کی تعمیل میں علماء ہند کی ایک جماعت نے دشمن طاقتوں کے خلاف مسلح جہاد کا آغاز کر دیا۔ مگر تقریباً ۵۰ سال کے تجربہ نے اس کو غیر مفید ثابت کیا۔ اب علماء نے اس معاملہ پر نظرثانی کی اور ایک اور بلا اعلان "فتویٰ" دیا۔ اپنے معنی کے اعتبار سے یہ دوسرا فتویٰ یہ تھا کہ ــــــــ ہندوستان دارالتعلیم ہو چکا ہے۔ اب تمام مسلمانوں کو تعلیم کے میدان میں سرگرم ہو جانا چاہئے۔ یہ نیا فیصلہ اتنا اہم

‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues

Printed page