چیلنج کا مثبت جواب
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۱۶
یہ مدارس سادہ طور پر صرف مدارس نہ تھے بلکہ وہ ملت مسلمہ کو ایک مثبت میدانِ کار کی طرف رہنمائی دینے والے تھے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو اس دور کے علماء کا گروہ بر صغیر ہند کے مسلمانوں کے لئے رائد(trend setter) کے مقام پر کھڑا ہوا نظر آئے گا۔
اس ابتدائی دور کے علماء نے مدارس کی صورت میں جو تعلیمی ادارے قائم کئے وہ پورے ملک میں ایک قسم کی تعلیمی بیداری کا ذریعہ بن گئے۔ اس کے بعد بر صغیر ہند میں جو دینی مدارس قائم ہوئے وہ تقریباً سب کے سب براہ راست یا بالواسطہ طور پر اسی ابتدائی تحریک مدارس کے اثرات کا نتیجہ تھے۔ علم بلاشبہ کسی انسان کا سب سے زیادہ قیمتی سرمایہ ہے۔ علم معمولی انسان کو غیر معمولی انسان بناتا ہے۔ علم ہر قسم کی انسانی ترقی کا واحد یقینی ذریعہ ہے۔ مسند احمد (۴۱۲/۳) اور حدیث کی دوسری کتابوں میں ایک روایت آئی ہے جس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ما نحل والده ولده افضل من ادب حسن (الترمذی، کتاب البر) یعنی کسی والد نے اپنی اولاد کو اچھی تعلیم و تربیت سے زیادہ افضل کوئی چیز نہیں دی۔
اس حدیث میں والد اور اولاد کے لفظ کو اگر تو وسیع معنی میں لیا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ اولاد سے مراد افراد ملت ہیں اور والد سے مراد ملت کے رہنما۔ یعنی کوئی ملی رہنما اگر اپنی ملت کی بہتر تعلیم و تربیت کا نظام کرے تو وسیع تر انطباق کے اعتبار سے وہ بھی اس حدیث رسول کا مصداق قرار پائے گا۔ یہ کہنا شاید غلط نہ ہوگا کہ اس دور کے علماء نے ملت مسلمہ کو یہی سب سے زیادہ قیمتی تحفہ دیا ہے۔ اللہ کی توفیق سے انھیں یہ موقع ملا کہ وہ علم دین کا ایسا سلسلہ جاری کریں جو نسل در نسل مسلمانوں میں چلتا ہے۔ جو غیر منقطع طور پر مسلم نسلوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔
چیلنج کا مثبت جواب
پچھلے ڈیڑھ سو سال کے اندر بر صغیر ہند میں، اسلام اور ملت اسلام کے حوالہ سے جو تحریکیں اٹھیں، ان میں غالباً سب سے زیادہ دور رس اور نتیجہ خیز تحریک یہی زیر بحث تحریک تھی۔ اس تحریک کو مدارس دینیہ کی تحریک یا تحریک مدارس کہا جاتا ہے۔
مدارس دینیہ کی تحریک کا فکری آغاز متعین کرنا ہو تو غالباً وہ ۱۸۳۴ء ہوگا، جیسا کہ معلوم ہے، اسی
‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues