گر ہمیں مکتب و ہمیں ملا کار طفلاں تمام خواہد شد
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۱۹
پڑی۔ مگر انھوں نے اللہ کی خاطر ان تمام چیزوں کو برداشت کیا اور اس مشکل ترین تعلیمی مہم کو جاری رکھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہزاروں علماء اگر ایک کے بعد ایک اس تعلیمی مہم کے لئے کھڑے نہ ہوتے اور ہر قسم کی قربانی کے باوجود اس کو مسلسل جاری نہ رکھتے تو یہ منصوبہ صرف ایک نظری منصوبہ بن کر رہ جاتا وہ کبھی تکمیل کے مرحلہ تک نہ پہنچتا۔
یہ علماء قناعت کی بوریوں پر بیٹھ کر ملت کے بچوں کو دین کی تعلیم دیتے تھے، اور معاشرہ کا حال یہ تھا کہ وہ عزت دینے کے بجائے انھیں حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا۔ اس کا اندازہ ایک مشہور مسلم شاعر کے ان دو شعروں سے ہوتا ہے:
گر ہمیں مکتب و ہمیں ملا کار طفلاں تمام خواہد شد
گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا کہاں سے آئے صدا لا الہ الا اللہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علماء اسلام کو کن دل خراش حالات میں اپنا یہ تعلیمی کام انجام دینا پڑا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بر صغیر ہند میں تعلیمی منصوبہ کو مختلف مصلحتوں کی بنا پر فری ایجوکیشن (مفت تعلیم) کے اصول پر چلایا گیا تھا۔ اس اصول نے اہل مدرسہ کے کام کو مزید مشکل بنا دیا۔ مدارس کے ملک گیر اور انتہائی وسیع نظام کو فری ایجوکیشن کے اصول پر چلانا ایک بے حد مشکل منصوبہ تھا۔ جب کہ علماء کا یہ فیصلہ بھی تھا کہ اس کو حکومت کے تعاون کے بغیر آزادانہ طور پر چلانا ہے۔ اس انتہائی مشکل منصوبہ کو علماء اسلام نے اس طرح ممکن بنایا کہ اس کا سارا بوجھ خود اپنے اوپر لے لیا۔ علماء نے توکل اور قناعت اور کفایت شعاری کو اختیار کر کے اس ناممکن کو ممکن بنایا۔ اللہ کے یہ بندے دنیا کے نفع اور نقصان سے بے نیاز ہو کر تعلیم و تدریس کے اس خشک کام میں مصروف رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دور جدید میں فری ایجوکیشن کے اس وسیع منصوبہ کو کامیابی کے ساتھ چلانے کا یہ ایک انوکھا تجربہ ہے جس کی کوئی دوسری مثال اتنے بڑے پیمانہ پر شاید کسی اور انسانی معاشرہ میں نہیں ملے گی۔ اب اہل مدرسہ کے حالات کافی بدل چکے ہیں۔ ماضی کی قربانیوں کا صلہ اب علماء کے موجودہ گروہ کو یہ مل رہا ہے کہ آج ان کی خدمات کا عام طور پر اعتراف کیا جانے لگا ہے۔ اسی کے ساتھ جدید سہولتوں نے قدیم مشکلات کی جگہ لے لی ہے۔ تاہم اس تبدیلی کے لئے تاریخ کو ڈیڑھ سو سال کا انتظار کرنا پڑا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues