Al-Risala · September 2000 · page 20

شریعت کی رہنمائی

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۲۰

شریعت کی رہنمائی

اسلامی شریعت کی رہنمائی کا تعلق کچھ محدود مسائل سے نہیں ہے بلکہ اس سے زندگی کے ہر معاملہ میں رہنمائی ملتی ہے۔ مدارس کی تحریک کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس کو اس معاملہ میں شریعت کے رہنما اصولوں کی روشنی میں چلایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ مدارس کی تحریک کو وہ کامیابی ملی جو موجودہ زمانہ میں کسی دوسری تحریک کو نہیں ملی۔ یہاں اس سلسلہ میں اس کے چند پہلوؤں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ حدیث مرفق یہ دنیا فطرت کے مقرر قوانین پر چل رہی ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس دنیا میں طاقت کا زیادہ بڑا حصہ عدم تشدد (non-violence) میں ہے۔ اس کے مقابلہ میں تشدد (violence) اکثر تخریب کاری پر منتج ہوتا ہے۔ خدا کی اس دنیا میں طاقت کا زیادہ بڑا سر چشمہ امن ہے نہ کہ جنگ۔ اس حقیقت کو ایک حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: إن الله يعطى على الرفق مالا يعطى على العنف (صحیح مسلم، کتاب البر) یعنی اللہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جس کو وہ سختی پر نہیں دیتا۔ اس حدیث کا تعلق صرف اخلاقی سلوک سے نہیں بلکہ اس کا تعلق ہر قسم کے عمل سے ہے، حتی کہ اجتماعی زندگی کی بڑی بڑی سرگرمیوں سے بھی۔ اصل یہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی نتیجہ خیز عمل گہری منصوبہ بندی چاہتا ہے۔ اس دنیا میں ہر عمل کے راستہ میں بے شمار رکاوٹیں ہیں۔ قدم قدم پر دوسروں کے ساتھ ٹکراؤ کا امکان پیش آتا ہے۔ ایسی حالت میں کیا کرنا چاہیے۔ اگر آپ یہ چاہیں کہ پہلے تمام رکاوٹوں کو راستہ سے ہٹا دیا جائے تا کہ آپ کا سفر بلا روک ٹوک تیزی کے ساتھ جاری ہو سکے، تو ایسی حالت میں یہ ہو گا کہ آپ کا سفر ہی کبھی شروع نہ ہو سکے۔ اس قسم کا ذہن کبھی نہ ختم ہونے والا تشدد شروع کر دے گا۔ ایک کے بعد ایک آپ مختلف رکاوٹوں سے لڑتے رہیں گے۔ آپ کی یہ قشد دانه جد و جہد کبھی ختم نہ ہوگی۔ کیوں کہ اللہ نے اس دنیا میں انسان کو مختلف قسم کی رکاوٹوں اور مشکلات کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ (البلد ۴) اللہ کی مشیت یہی ہے کہ یہ دنیا کبھی ان رکاوٹوں سے خالی نہ ہو۔ ایسی حالت میں اس دنیا میں ٹکراؤ کا

‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues

Printed page