علماء کا قائدانہ کردار
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۲۷
ملنا ممکن نہیں۔ اور یہ خود فطرت کے قانون کی بنا پر ہو گانہ کہ کسی کی سازش کی بنا پر۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ مدارس کے نصاب میں انگریزی زبان لازمی مضمون کے طور پر داخل نصاب ہو۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہر بڑے مدرسہ میں انگریزی زبان اور عصری علوم کو اختیاری مضمون (optional subject) کی حیثیت سے شامل کیا جائے۔ اور طلبہ کے لئے یہ موقع ہو کہ ان میں سے جو شخص چاہے وہ اس سے استفادہ کر سکے۔ یہی واحد طریقہ ہے جس کے ذریعہ ہم مدارس کو علماء کو دوبارہ اس قابل بنا سکتے ہیں کہ آج کے حالات میں وہ اپنا قائدانہ رول ادا کر سکیں۔ بین اقوامی کانفرنسوں میں شرکت کے دوران مجھے بار بار یہ تجربہ ہوا ہے کہ دوسرے مذاہب میں ایسے افراد کثرت سے موجود ہیں جو عالمی اسٹیج پر اپنے مذہب کی نمائندگی انگریزی زبان اور عصری اسلوب میں کر سکیں۔ مگر اسلام کی صفوں میں ایسے علماء مشکل سے ملیں گے جو حقیقی طور پر اس کام کے اہل ہوں اور ان مواقع کو استعمال کرتے ہوئے وقت کے معیار پر اسلام کی نمائندگی کر سکیں۔ دینی مدارس کی یہ لازمی ذمہ داری ہے کہ وہ اس نقصان کی تلافی کے لئے ضروری تدابیر اختیار کریں۔ اس سلسلہ کی چند مزید صورتیں یہ ہو سکتی ہیں۔ جدید متعلق موضوعات پر تو سیعی لیکچر (Extention Lecture) کا انتظام کرنا۔ مقررہ نصاب کے ساتھ مزید کتابیں تجویز (recommend) کرنا۔ طلبہ کو بین مذاہب اجتماعات میں شرکت کے مواقع دینا۔ تعطیلات میں طلبہ کے تربیتی کیمپ قائم کرنا۔ طلبہ کی انجمن کے تحت جدید موضوعات پر تقریر و مذاکرہ کا پروگرام رکھنا، وغیرہ۔ مدارس کا دعوتی پہلو اسلامی درس گاہ کا تصور جو قرآن میں دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اس میں ایسے لوگ تیار ہوں جو درس گاہ سے فارغ ہو کر اقوام عالم میں اسلام کی دعوت و تبلیغ کا کام (التوبہ ۱۲۲) انجام دیں۔ اسلام کے ظہور کے بعد مسلسل یہ کام جاری رہا۔ ہر دور میں جو دینی مدارس قائم کئے گئے ان کا خاص مقصد یہی تھا کہ ان کے نظام کے تحت ایسے علماء تیار ہوں جو مسلمانوں کی دینی رہنمائی کے ساتھ اسلام کی عمومی اشاعت کا فریضہ بھی انجام دے سکیں۔ مدارس کا یہ نظام کم وبیش آج بھی جاری ہے۔ مگر بعد کے اسباب کے تحت مدارس کا یہ شعبہ دعوتی اسلوب کے بجائے مناظرہ کے اسلوب پر قائم ہو گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues