علماء کا قائدانہ کردار
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۲۶
مگر ہندوستان میں برطانوی اقتدار قائم ہونے کے بعد صورت حال بدل گئی۔ اب یہاں کے حاکموں اور لیڈروں اور تعلیم یافتہ لوگوں کی زبان انگریزی بن گئی۔ اب نہ صرف حکام سے ربط کے لئے بلکہ عوامی سطح پر کوئی بڑی تحریک چلانے کے لئے بھی انگریزی زبان لازمی طور پر ضروری ہو گئی۔ اس لسانی تبدیلی کے بعد ملکی تاریخ دوسرا منظر دیکھتی ہے۔ علماء اسلام جو تقریباً ہزار سال سے ملی اور سیاسی معاملات میں قائدانہ رول ادا کرتے چلے آرہے تھے، انہوں نے اچانک اپنے آپ کو اس میدان میں حاشیہ پر پایا۔
مثال کے طور پر بیسویں صدی کے نصف اول میں بر صغیر ہند میں دو بڑی تحریکیں اٹھیں آزادی ہند کی تحریک اور تقسیم ہند کی تحریک۔ علماء نے ان دونوں تحریکوں میں حصہ لیا۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ دونوں تحریکوں میں ان کا رول زیادہ تر ثانوی رہا۔ دونوں ہی میں قائدانہ رول وہ غیر علماء ادا کرتے رہے جو انگریزی زبان میں لکھنے اور بولنے کی قدرت رکھتے تھے۔ تقسیم کے بعد بھی کم و بیش یہی صورت حال باقی رہی۔ مثال کے طور پر تقسیم کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کے درمیان اٹھنے والی سب سے بڑی تحریک وہ تھی جو آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس تحریک میں علماء بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ مگر دھیرے دھیرے دوبارہ یہی ہوا کہ علماء اس کے نظام میں غیر مؤثر ہو گئے اور غیر علماء، مثلاً ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی اور ڈاکٹر سید محمود وغیرہ، عملاً اس کے اوپر چھا گئے، اس کا نتیجہ علماء اور غیر علماء کے درمیان کشاکش کی صورت میں نکلا۔ جس کا آخری انجام یہ ہوا کہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اپنا نشانہ پورا کرنے سے پہلے ہی اختلاف و انتشار کا شکار ہو کر رہ گئی۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہندوستانی علماء بالقوہ طور پر اپنے اندر وہ تمام صلاحیتیں رکھتے ہیں جو آج کے حالات میں قیادتی کردار ادا کرنے کے لئے ضروری ہیں۔ مگر صرف ایک کمی نے ان کو قیادت کے میدان سے باہر کر دیا ہے، اور وہ ہے انگریزی زبان یا الفاظ دیگر عصری زبان میں لکھنے اور بولنے پر قادر نہ ہونا۔ اب آخری طور پر علماء کے لئے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ انگریزی زبان کو خصوصی اہتمام کے ساتھ سیکھیں۔ بصورت دیگر، انہیں آج کی دنیا میں تقدس کا درجہ تو مل سکتا ہے مگر انہیں قیادت کا درجہ
‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues