Al-Risala · September 2000 · page 29

علماء کا قائدانہ کردار

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۲۹

پورا عمل ایک قسم کی لفظی کشتی بن جاتا ہے۔ مناظر کی زبان آرا کی طرح تیز ہو جاتی ہے نہ کہ پھول کی طرح نرم۔ یہاں تک کہ یہ نوبت آ جاتی ہے کہ مناظر کو اس سے دلچسپی نہیں رہتی کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔ اس کی ساری دلچسپی اس سے ہوتی ہے کہ ایک ماہر وکیل کی مانند کسی نہ کسی طرح وہ فریق ثانی کو میدان مقابلہ میں ہرادے۔ ۱۹۷۲ سے پہلے ہونے والے مناظروں کی رودادیں پڑھ کر اس کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

مناظرہ اور دعوت کے فرق کو قرآن کی زبان میں بیان کرنا ہو تو وہ ایک لفظ میں یہ ہوگا کہ دعوت کا نشانہ آدمی کا قلب ہوتا ہے۔ داعی ایسی بات کہنے کی کوشش کرتا ہے جو فریق ثانی کے دل میں اتر جانے والی ہو (الننساء ۲۳)۔ اس کے برعکس مناظر کی ساری کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح فریق ثانی کو مقابلہ کے میدان میں پچھاڑ دے۔ مگر مناظرہ کا یہ طریقہ پیغمبروں کی سنت کے مطابق نہیں۔ یہ ایک لازمی ضرورت ہے کہ اس معاملہ میں مدارس کے نظام کو بدلا جائے۔ اس کو مناظرہ کے بجائے دعوت کے قرآنی اصول پر قائم کیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues

Printed page