علم کا چشمہ رواں
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۳۰
علم کا چشمہ رواں
اسلام کے آغاز ہی سے تعلیم یا پڑھنا اور پڑھانا مسلم معاشرہ کا ایک لازمی حصہ بن گیا اور پھر وہ کبھی اس سے جدا نہ ہوا۔ علم کے اس چشمہ رواں کے دو بہے دھارے تھے۔ ایک اجتماعی ادارہ (institution) اور دوسرے انفرادی تلمذ (discipleship)۔ علم کے یہ دونوں دھارے اس کے دور اول سے ہی اسلام کی تاریخ کا مستقل حصہ بن گئے۔ دور اول میں قائم ہونے والا پہلا تعلیمی ادارہ وہ تھا جو صفہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس مدرسہ صفہ کے معلم اول خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور اس کے جو طلبہ تھے ان کو اصحاب صفہ کہا جاتا تھا۔ حضرت ابو ہریرہ اسی مدرسہ صفہ کے ایک طالب علم تھے جو احادیث رسول کا سب سے بڑا ماخذ ہیں۔ مدرسہ صفہ گویا ایک تعلیمی بیچ تھا۔ وہ بڑھتے بڑھتے آخر کار ایک تناور درخت بن گیا۔ اس کی شاخیں اور پنتیاں تقریباً تمام آباد دنیا میں پھیل گئیں۔ اس تعلیمی چشمہ کا دوسرا زیادہ بڑا دھارا وہ ہے جو انفرادی تلمذ (discipleship) کی صورت میں جاری ہو۔ ہر صاحب علم اس عظیم تعلیمی قافلہ کا ایک ممبر تھا۔ اس سلسلہ کی پہلی مثال اصحاب رسول کے یہاں ملتی ہے۔ تقریباً تمام اکابر صحابہ کا حال یہ تھا کہ وہ روزانہ لوگوں کے لئے حصولِ علم کا مرکز بنے رہتے تھے۔ یہ تعلیم انفرادی تلمذ کے اصول پر جاری تھی۔
اس کے بعد انفرادی معلمی کا یہ سلسلہ نسل در نسل جاری ہو گیا۔ صحابہ کے ذریعہ تابعین نے کسب فیض کیا۔ تابعین اس کے بعد تبع تابعین کے معلم بنے رہے۔ یہی تمام علمی گروہوں کا حال ہو۔ محد ثین اور فقہاء، مفسرین اور شار حین، متکلمین اور مورخین اسلام، ائمہ اور علماء اسلام، صلحاء اور صوفیہ کی بیشتر تعداد اسی طرح انفرادی تلمذ اور شخصی کسب فیض کے ذریعہ علم دین حاصل کرتی رہی۔ تاریخ اسلام کے اکثر بڑے علماء انہی انفرادی درس گاہوں میں تعلیم پا کر تیار ہوئے۔ حتی کہ مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا شبلی نعمانی اور مولانا حمید الدین فراہی جیسے علماء متاخرین بھی اسی انفرادی تعلیمی نظام میں بن کر تیار ہوئے۔
مغربی کلچر در اصل مرچنٹ کلچر تھا جس نے ہر چیز بشمول تعلیم کو کمر ھلائز کر دیا۔ اس کے نتیجہ
‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues