Al-Risala · September 2000 · page 35

کتابوں تک رسائی

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۳۵

حالت قائم رہی یہاں تک کہ لوگ اپنی دینی شناخت کھو بیٹھے۔ اسپین کے مقامی معاشرے میں وہ اس طرح ضم ہو گئے کہ انھیں یہ بھی یاد نہ رہا کہ ان کے آبا و اجداد کبھی مسلمان تھے۔ انیسویں صدی میں جب ہندوستان میں مسلم اقتدار کا خاتمہ ہوا تو یہاں کی مسلم نسلوں کے لئے بھی اسی قسم کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ یہاں بھی تعلیم و تدریس کا پورا کام حکومت کی سرپرستی میں انجام پاتا تھا۔ حکومت کے خاتمہ کے جو حالات پیدا ہوئے اس کے نتیجہ میں خارجی سرپرستی تقریبا ختم ہو گئی، مگر اس نازک موقع پر اللہ تعالی نے علماء اسلام کو کھڑا کیا۔ انھوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ حکومت کے تعاون کے بغیر عام مسلمانوں کی مدد سے تعلیم دین کا نظام چلایا جائے ۔ اللہ کی خصوصی توفیق سے یہ منصوبہ کامیاب رہا اور بڑھتے بڑھتے یہ حال ہوا کہ سارے ملک میں چھوٹے بڑے بے شمار مدارس کا جال بچ گیا ۔ اس تعلیمی منصوبہ کا نتیجہ تھا کہ ہندوستان اسپین جیسے حالات سے مکمل طور پر بچ گیا۔ ہر شخص جانتا ہے کہ اس ملک کے مسلمان آج پوری دینی شناخت کے ساتھ یہاں رہ رہے ہیں۔ ان کی دینی زندگی یہاں اتنی مستحکم ہو چکی ہے کہ بار بار یہاں مختلف قسم کے طوفان آتے ہیں مگر وہ مسلمانوں کی دینی زندگی کے لئے کوئی خطرہ نہیں بنتے۔ ایک انگریزی مثل کے مطابق، اس ملک کے مسلمان ہر موقع پر طوفان کی بڑی چڑیا (big bird of the storm) ثابت ہوئے ہیں۔ اور یہ سارا کریڈٹ بڑی حد تک علماء کے قائم کردہ اس تعلیمی نظام کو جاتا ہے جس کو مدارس دینیہ کا نظام کہتے ہیں، جو نسل در نسل مسلمانوں کو تعلیم یافتہ بنانے کا کام انجام دے رہا ہے۔

کتابوں تک رسائی

حدیث میں آیا ہے کہ: قیدوا العلم بالكتاب (الدارمی، مقدمة) یعنی علم کو لکھ کر محفوظ کرو۔ اس کے مطابق، ایک علم وہ ہے جو بشکل تحریر محفوظ ہو اور دوسرا علم وہ ہے جس کو تحریری طور پر محفوظ نہ کیا گیا ہو۔ عالم اور جاہل میں یہ فرق ہے کہ جاہل کی رسائی صرف غیر محفوظ علم تک ہوتی ہے اور عالم کی رسائی محفوظ علم تک بھی اور غیر محفوظ علم تک بھی۔

ایک شخص جو پڑھنا نہ جانتا ہو وہ صرف انہی باتوں کو جان سکتا ہے جن کو وہ سن سکتا ہو۔ وہ علوم جو اس کی سماعت سے باہر کتابوں اور تحریروں کی صورت میں محفوظ کئے گئے ہیں، ان علوم تک ایک جاہل کی

‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues

Printed page