فوائد و برکات
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۳۴
فوائد و برکات
دینی مدارس کے فائدے اور برکتیں بہت زیادہ ہیں اور ان کا تعلق زندگی کے مختلف پہلوؤں سے ہے۔ جس طرح علم کے فائدے کی کوئی حد نہیں ، اسی طرح مدرسہ یا تعلیم گاہ کے فوائد کی بھی کوئی حد نہیں۔ یہاں صرف علامتی طور پر اس کی چھ مثالیں درج کی جاتی ہیں۔
علم دین کا تسلسل
مدارس دینیہ کے ذریعہ مسلمانوں کو مختلف قسم کے فائدے حاصل ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک فائدہ وہ ہے جس کو علم دین کا تسلسل یا استمرار کہا جا سکتا ہے۔ یہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر مدارس دینیہ کا ہی کارنامہ ہے کہ علم دین کا سلسلہ نسل در نسل بر صغیر ہند میں جاری رہا۔ جو کسی قوم کو مسلسل زندہ رکھنے کے لئے لازمی طور پر ضروری ہے اس معاملے کو سمجھنے کے لئے میں ایک واقعاتی مثال دوں گا۔ ۱۹۹۴ء میں، میں نے اسپین (انڈلس) کا سفر کیا۔ اسپین کے بارے میں یہ سمجھایا جاتا ہے کہ جب وہاں مسلمانوں کا آٹھ سو سالہ سیاسی اقتدار ختم ہوا تو اسی کے ساتھ وہاں کے مسلمانوں کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ مسلمان یا تو مار ڈالے گئے یا وہاں سے بھاگ کروہ باہر چلے گئے۔ مگر اسپین کے سفر کے بعد مجھ پر یہ منکشف ہوا کہ یہ بات خلاف واقعہ ہے۔
اصل یہ ہے کہ سیاسی اقتدار کے خاتمہ (۱۹۹۲ء) کے بعد بھی اسپین میں مسلمان ہزاروں کی تعداد میں باقی رہے۔ جو حادثہ پیش آیا وہ یہ نہیں تھا کہ اسپین سے مسلمانوں کا وجود مٹ گیا ہو، جو بات ہوئی وہ یہ تھی کہ مسلمانوں کی بعد کی نسلوں میں تعلیم دین کا تسلسل (استمرار) ٹوٹ گیا۔ جیسا کہ معلوم ہے، مسلم اسپین میں علم کو بہت زیادہ فروغ ہوا مگر یہ سارا کام وہاں حکومت کی سرپرستی میں ہو رہا تھا۔ تعلیم و تدریس اور اشاعت دین کا سارا کام حکومت کر رہی تھی۔ یہ کام اتنا زیادہ بڑھا کہ کہا جاتا ہے کہ اس زمانہ میں اسپین کے مسلمان تقریباً صد فی صد تعلیم یافتہ ہو گئے تھے۔ حکومت کے خاتمہ کے بعد جب اس کی تعلیمی سر پرستی ختم ہوئی تو اسی کے ساتھ تعلیم کا سارا نظام بھی ختم ہو گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعد کی مسلم نسلوں میں علم دین کا تسلسل ٹوٹ گیا۔ نسل در نسل یہ انتظامی
‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues