سلائی ہاؤس
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۱
کی براہ راست رسائی مذہبی کتابوں تک ہو سکتی تھی۔
اس کے نتیجہ میں یہود کے علماء اور عوام کے درمیان ایک ذہنی بعد (intellectual gap) قائم ہو گیا۔ ان کے عوام نہ خود اپنی مذہبی کتابوں کو پڑھ سکتے تھے اور نہ ان کے اندر یہ صلاحیت تھی کہ وہ اپنے علماء کی علمی باتوں کو سمجھ سکیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عوام دھیرے دھیرے علماء سے دور ہوتے چلے گئے۔ مذہب کے نام سے ان کے پاس توہمات (superstitions) اور آرزوؤں (wishful thinking) کے سوا اور کچھ باقی نہ رہا۔ خواص اور عوام کے درمیان اس ذہنی بُعد کا نتیجہ یہ ہوا کہ عوام کی اصلاح نا ممکن ہو گئی کیوں کہ گہری اصلاح کی بات آسمانی کتابوں کے حوالہ سے کرنی پڑتی ہے، اور ان کے عوام اپنی جہالت کی بنا پر اس قابل ہی نہ تھے کہ وہ کتابی زبان اور علمی اسلوب کو سمجھ سکیں۔ یہی حال قدیم زمانہ میں تمام قوموں کا تھا۔ اس کی ایک مثال ہندوستان میں دیکھی جاسکتی ہے۔ ہندوستان میں ہزاروں سال سے خواص و عوام کی یہی تقسیم بہت بڑے پیمانہ پر قائم تھی۔ علم پڑھنا لکھنا صرف برہمن خاندانوں کے درمیان محدود تھا۔ ایسے تعلیمی ادارے موجود نہ تھے جہاں عوام لکھنا پڑھنا سیکھیں۔ اس فرق کا نتیجہ یہ ہوا کہ علم زیادہ تر کچھ برہمن خاندانوں میں منحصر ہو کر رہ گیا اور ملک کے ۹۵ فیصد عوام اپنی جہالت کی بناپر توہمات کو مذہب سمجھ کر اس میں مبتلا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ علم کو خواص کے دائرہ سے نکال کر عوام کے دائرہ تک پہنچانے کا کام تاریخ میں پہلی بار اسلام نے کیا۔ مسلم علماء نے علم کی توسیع کا یہ کام دنیا کے ہر ملک میں انجام دیا جن میں سے ایک ملک بلاشبہ ہندوستان بھی تھا۔
علماء اسلام نے تعلیم و تدریس کا جو کام شروع کیا اس کا فائدہ فطری طور پر یہاں کی غیر مسلم آبادی کو بھی پہنچا۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ہندوستان میں مسلم دور کے آغاز سے پہلے ہندوؤں میں صرف برہمن اور اعلیٰ حیثیت کے کچھ لوگ تعلیم حاصل کر سکتے تھے۔ ہندو عوام زیادہ تر اس سے محروم تھے۔ مسلم عہد میں جب ملک میں عمومی تعلیمی ادارے کھولے گئے تو مسلم طلبہ کے ساتھ ہندو طلبہ بھی اس میں داخلہ لے کر تعلیم حاصل کرنے لگے۔ اس کے بعد جب 19 ویں صدی میں مسلم علماء نے زیادہ بڑے پیمانہ پر مدارس کھولنا شروع کیا تو ان مدارس کے ذریعہ مسلمانوں کے ساتھ غیر
‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues