Al-Risala · September 2000 · page 40

سلائی ہاؤس

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۴۰

دینی ضرورتیں بھی۔ ان لوگوں نے ہندوستان میں بھی دینی مدارس قائم کئے اور یورپ و امریکہ اور افریقہ میں بھی۔ ان کے ذریعہ علمی شعبہ کو قابل کار افراد ملتے اور مل رہے ہیں۔

اس دنیا میں ہر چیز میں مسلسل ترقی کی گنجائش رہتی ہے۔ مذکورہ سپلائی ہاؤس کو مفید تر بنانے کے لئے بھی بلا شبہ بہت سے امکانات موجود ہیں۔ مشترک غور و فکر کے ذریعہ ان امکانات کو بروئے کار لایا جاسکتا ہے اور تعلیم و تربیت کے اس نظام کو اور زیادہ مفید بنایا جا سکتا ہے۔ ذہنی بُعد کا خاتمہ مدارس دینیہ کے ذریعہ ایک اور فائدہ یہ حاصل ہوا کہ اس کی وجہ سے ملت کے خواص اور ملت کے عوام کے در میان وہ نقص پیدا نہ ہو سکا جس کو ذہنی بُعد (intellectual gap) کہا جاتا ہے۔ قرآن میں یہود کے تذکرہ کے تحت بتایا گیا ہے کہ ان میں ایک فریق وہ ہے جو علم و عقل رکھتا ہے (البقرہ ۷۵) یہاں ”فریق“ سے مراد یہود کے علماء ہیں جن کو احبار کہا جاتا تھا۔ اس کے بعد ارشاد ہوا ہے کہ یہود میں دوسرا طبقہ ان کے عوام کا ہے۔ ان کی بابت قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: ومنهم اميون لا يعلمون الكتاب الا اماني وان هم الا يظنون (البقرہ ۷۸) یعنی اور ان میں اُن پڑھ ہیں جو نہیں جانتے کتاب کو مگر آرزو ہیں۔ ان کے پاس گمان کے سوا اور کچھ نہیں۔

قرآن کی اس آیت میں اُمّیون کا لفظ آیا ہے۔ اُمّیون جمع کا لفظ ہے۔ اس کا واحد اُمّی ہے۔ اُمّی عربی زبان میں اس شخص کو کہا جاتا ہے جو نہ لکھنا جانتا ہو اور نہ پڑھنا جانتا ہو (من لا يكتب و لا يقرأ)۔ الجامع لاحكام القرآن للقرطبی، الجزء الثاني، صفحه ۵۔

اصل یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں یہود کے اندر عمومی تعلیم کا رواج نہ تھا۔ کچھ مخصوص خاندان محدود طور پر تعلیم حاصل کرتے تھے۔ یہی لوگ تھے جو اپنی مذہبی کتابیں پڑھتے تھے۔ ان کے علاوہ یہود کی بہت بڑی اکثریت جاہل رہتی تھی۔ اس فرق کی وجہ یہ تھی کہ اس زمانہ میں عام طور پر خاندانی تعلیم کا رواج تھا نہ کہ عمومی تعلیم کا۔ عوام کی تعلیم و تدریس کے لئے ان کے یہاں مدرسے نہ ہوتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہود کے در میان بڑے پیمانہ پر خواص اور عوام کی تقسیم قائم ہو گئی۔ کچھ افراد یا کچھ خاندان کو علماء کا درجہ حاصل ہوتا تھا۔ اور بقیہ لوگ طبقہ عوام میں شمار ہوتے تھے جو نہ پڑھنا جانتے تھے اور نہ ان

‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues

Printed page