سلائی ہاؤس
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۴۳
اور ہر قسم کی مشکلوں کے باوجود اس کو قائم رکھا۔
انگریزی حکومت نے جو اسکول اور کالج کھولے وہ زیادہ تر شہروں میں واقع تھے۔ اس طرح وہ بڑی حد تک گاؤں کی دسترس سے باہر تھے جہاں ملک کی تقریباً ۷۵ فیصد آبادی رہتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں علماء نے یہ کیا کہ انھوں نے گاؤں گاؤں میں مکتب اور مدرسہ کھول دیا۔ اس طرح انھوں نے دینی تعلیم کو عملاً ہر خاندان کے دروازہ (doorstep) تک پہنچادیا۔
مثال کے طور پر میں یوپی کے ایک دور دراز گاؤں میں پیدا ہوا، مگر یہاں بھی یہ حال تھا کہ گاؤں کی مسجد میں ایک مدرسہ موجود تھا۔ یہ مدرسہ ڈاکٹر عبد العلی خاں صاحب کے خاندان نے اپنی ذاتی ذمہ داری پر قائم کیا تھا۔ اب جناب یمین الاسلام خاں (انجینئر) وغیرہ کے تعاون سے اس کو بہت زیادہ ترقی دی جارہی ہے۔ عام قاعدہ کے مطابق اس مدرسہ میں کوئی تعلیمی فیس نہ تھی۔ ابتدائی عمری میں مجھے اس مدرسہ میں داخل کر دیا گیا۔ اگر گاؤں کے اندر یہ مدرسہ نہ ہوتا تو میرے سرپرست کبھی بھی مجھ کو کم عمری میں کسی دور دراز مقام پر بھیجنے کی ہمت نہ کراتے۔ گاؤں کے اس مدرسہ میں میں نے اردو اور فارسی اور عربی کی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد میں مزید تعلیم کے لئے دوسرے مقام پر گیا اور وہاں ایک بڑے مدرسہ میں داخلہ لے کر عربی زبان اور دینی علوم کی تکمیل کی۔
انیسویں اور بیسویں صدی میں بر صغیر ہند میں اسلام اور ملت اسلام کے نام پر بہت سی تحریکیں اٹھیں۔ ان تحریکوں کو زبردست مقبولیت حاصل ہوئی۔ مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد ان کے گرد اکٹھا ہو گئی۔ اس سے قطع نظر کہ یہ تحریکیں کتنی نتیجہ خیز تھیں، ان تحریکوں کی مقبولیت اسی لئے ممکن ہوئی کہ مدارس دینیہ کے عمومی پھیلاؤ نے خواص اور عوام کے درمیان ذہنی بعد کو ختم کر دیا تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں جو بھی تحریک اٹھی اس نے قوم کے اندر اپنے لئے تیار ذہن (prepared mind) پایا۔ یہ تمام تر نہیں مدارس کی تعلیمی مہم کا نتیجہ تھا۔
اگر تعلیم کی عمومی اشاعت کے ذریعہ خواص اور عوام کے درمیان ذہنی دوری کا خاتمہ نہ ہو گیا ہوتا تو ان تحریکوں کو کبھی یہ مقبولیت حاصل نہ ہوتی۔ ایسی حالت میں تحریکوں کے علم بردار اخبار اور رسالے جاری کرتے مگر رسال ان کا کوئی بڑھنے والا نہ ہوتا، وہ جلسے کرتے مگر ان جلسوں میں ایسے لوگ
‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues