سلائی ہاؤس
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۴۴
شریک ہوتے جو سننے کے باوجود کچھ نہ سمجھتے۔ ہمارے خواص ایسے الفاظ لکھتے اور بولتے جن کا مفہوم وہ خود تو جانتے مگر وہی عوام ان سے بے خبر رہتے جن کو باخبر کرنے کے لئے یہ الفاظ لکھے اور بولے جا رہے تھے۔ ایسی حالت میں ان تحریکوں کا جو انجام ہو تا وہ پیشگی طور پر معلوم ہے۔ دینی ولی انفراسٹرکچر دینی مدارس کے ذریعہ ملت کو جو فائدے حاصل ہوئے ان میں سے ایک فائدہ وہ ہے جس کو دینی انفراسٹرکچر کہا جا سکتا ہے۔ کسی بھی کام کو مؤثر انداز میں چلانے کے لئے ہمیشہ اس کے موافق ایک عملی ڈھانچہ یا انفراسٹرکچر (infrastructure) در کار ہو تا ہے۔ مثال کے طور پر تجارتی کاروبار کسی ملک میں اس وقت کامیاب ہوتا ہے جب کہ تجارتی سازو سامان کی منتقلی کے لئے پورے ملک میں اچھی سڑک کی سہولت موجود ہو۔ ہر مقام پر ٹیلی فون کا عمدہ انتظام ہو تا کہ ملک کے مختلف حصوں میں با آسانی پیغامات کو بھیجنا ممکن ہو سکے، وغیرہ، وغیرہ۔
یہی معاملہ دینی اور ملی کام کا ہے۔ دینی ولی کاموں کے لئے بھی اس کے موافق ایک وسیع انفراسٹرکچر کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس طرح مادی انفراسٹرکچر کے بغیر مادی کاروبار ترقی نہیں کرتا، اسی طرح دینی انفراسٹرکچر کے بغیر دینی کام بھی زیادہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔
دینی مدارس کا جو کام بر صغیر ہند میں شروع کیا گیایدہ اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک ایسا کام تھا جو مسلسل توسیع پذیر تھا۔ مدرسہ کے کام کی نوعیت یہ تھی کہ مدرسہ میں پڑھ کر تیار ہونے والا ہر نوجوان اپنے اندر یہ صلاحیت رکھتا تھا کہ وہ اپنی مادر علمی کی طرح خود بھی نئے مدارس قائم کر سکے۔ چنانچہ دینی مدارس کی تحریک کا آغاز ہوتے ہی یہ کام خود اپنے فطری مزاج کے زور پر آگے بڑھنے لگا۔ مدرسہ کے فارغین مدرسہ سے نکلنے کے بعد نئے مدارس قائم کرنے لگے۔ مدارس کے کام کی یہ توسیع حسابی تناسب (arithmetical proportion) سے آگے نہیں بڑھی، یعنی اس کے بڑھنے کی رفتار ۱، ۲، ۳، ۴، ۵، ۶، ۷، ۸، نہ تھی بلکہ وہ جیومیٹریکل تناسب (geometrical proportion) سے بڑھنا شروع ہوئی۔ یعنی اس کے بڑھنے کی رفتار یہ تھیـــ ۲، ۴، ۸، ۱۶، ۳۲، ۶۴۔ مزید یہ کہ یہ تحریک خود اپنی نوعیت کے اعتبار سے قابل بقا (sustainable)
‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues