اچھے شہری
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۴۸
اپنے دل میں ایک مت بجے۔ یہاں تک کہ اب یہ حال ہے کہ یہ ہندو اپنے دائی مراعات کو کرنے کے لئے مدرسہ والوں کے پاس آتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو مدرسہ والوں پر پورا بھروسہ ہے۔ اسی طرح ایک بار میں ایک اور مدرسہ میں گیا۔ وہاں مدرسہ سے ملا ہوا ایک باغ تھا۔ اس زمانہ میں باغ کو ایک ہندو ٹھیکہ دار نے لیا تھا۔ اس ہندو باغبان سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ جب میں یہاں آیا تو میں ڈرتا تھا کہ مدرسہ کے لڑکے ہمارے باغ کا نقصان کریں گے۔ مگر میرا یہ خیال غلط نکلا۔ مدرسہ والوں کا حال یہ ہے کہ پیڑ کا پھل توڑنا تو در کنار زمین پر گرے ہوئے پھل کو بھی وہ نہیں اٹھاتے۔ ملک بھر میں پھیلے ہوئے دینی مدارس اسی طرح اچھے شہری تیار کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ اس کی مثالیں ہر جگہ دیکھی جاسکتی ہیں۔
اں کی طرح ہوتے ہیں، یاد رکھیے! جو اردو نہیں جانتے، ان
‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues