اچھے شہری
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۴۷
مگر آج کے ہندوستان میں ایسے ادارے موجود نہیں جو اچھے شہری بنانے کا کام کر رہے ہوں۔ ملک میں اسکول اور کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر جو تعلیمی نظام قائم ہے وہ سیکولرزم پر مبنی تعلیمی نظام ہے۔ چنانچہ ایسے افراد کی تیاری اس کے مقاصد میں شامل ہی نہیں۔ اس تعلیمی نظام کا واحد نشانہ لوگوں کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ اپنی معاشی اور مادی ضرورتوں کو پورا کر سکیں۔
ایسی حالت میں مدارسِ دینیہ کا نظام ہی ملک میں وہ واحد بڑا نظام ہے جو اس اخلاقی مقصد کی تکمیل کر رہا ہے یا کر سکتا ہے۔ ان مدارس کا مقصد لوگوں کو اسلام کی تعلیم دینا ہے۔ مکتب کے ابتدائی مرحلہ سے لے کر دارالعلوم تک ہر مرحلہ میں یہی مقصد اس کے سامنے رہتا ہے۔ اب دیکھئے کہ اسلام کیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعثت لائمم حسن الاخلاق (موطا امام مالک) یعنی میں دنیا میں اس لئے بھیجا گیا ہوں تاکہ میں حسن اخلاق کی تکمیل کروں۔ اسی طرح آپ نے فرمایا: اکمل المومنین ایمانا احسنہم خلقا (مسند احمد) یعنی سب سے زیادہ کامل ایمان اس کا ہے جو اخلاق میں سب سے زیادہ اچھا ہو۔ مدارس دینیہ میں جو نوجوان تعلیم و تربیت پاتے ہیں وہ اپنی پوری تدریسی مدت میں اسی قسم کی باتیں پڑھتے اور سنتے ہیں۔ مدارس کا پورا ماحول ایسا ہوتا ہے کہ وہاں آدمی کو صبح و شام اخلاق و انسانیت کی تربیت دی جاتی ہے۔ وہاں رسول اور اصحابِ رسول کو زندگی کے لئے رول ماڈل کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ مدارس عملاً ملک کے لئے اچھے شہری اور بہتر انسان فراہم کرنے کے ادارے بن گئے ہیں۔
یہاں میں اس کی وضاحت کے لئے چند مثالیں دوں گا۔ ایک بار میں ہماچل پردیش کے ایک مدرسہ میں گیا۔ اس مدرسہ کو دیوبند کے ایک عالم نے قائم کیا ہے۔ اس مدرسہ کے آس پاس زیادہ تر ہندوؤں کی آبادیاں ہیں، یہ مدرسہ جب قائم ہوا تو ان پڑوسی ہندوؤں کو تشویش ہوئی۔ وہ سوچنے لگے کہ مدرسہ کے لوگ پتہ نہیں کس قسم کی مصیبت ہمارے لئے کھڑی کریں گے۔ مگر ان کا یہ خوف بے بنیاد تھا۔ چنانچہ تجربات کے بعد دھیرے دھیرے وہ ختم ہو تا چلا گیا۔
مثال کے طور پر مدرسہ کے قریب ہندوؤں کے ایک گاؤں میں آگ لگ گئی۔ یہ رات کا وقت تھا۔ جب آگ کے شعلے بلند ہوئے تو مدرسے والوں کو اس کی خبر ہو گئی، وہ کسی طلب کے بغیر دوڑ کر اس گاؤں
‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues