Al-Risala · September 2000 · page 50

دینی مدارس کا امتیاز

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۵۰

۱۔ غیر دینی درس گاہیں خواہ وہ ملک کے اندر ہوں یا ملک کے باہر، سب کی سب عملاً ایک ہی مقصد کے تحت قائم ہیں، اور وہ یہ ہے کہ طالب علم کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ دنیا میں اچھا جاب حاصل کرسکے۔ ہر جگہ جاب رخی تعلیم (Job-oriented education) کا رواج ہے۔ گویا کہ یہ تعلیم گاہیں انسان کو حیوان کاسب(earning animal) بنانے کے کارخانے ہیں۔

دینی مدارس کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ ایک لفظ میں کہا جاسکتا ہے کہ دینی مدارس خدا رخی تعلیم (God-oriented education) کے ادارے ہیں۔ وہ انسان کے اندر اعلیٰ مقصدیت کا شعور جگاتے ہیں۔ وہ انسان کو مادی سطح سے اٹھا کر روحانی یا ربانی سطح پر جینا سکھاتے ہیں۔ ۲۔ غیر دینی مدارس عملی طور پر یہ سبق دیتے ہیں کہ دنیا کی مادی چیزوں کا حصول ہی ہماری زندگی کی آخری منزل ہے۔ جب کہ دینی مدارس ہر طالب علم کے اندر یہ ذہن بناتے ہیں کہ دنیا کی مادی چیزیں تمہاری ضرورت ہیں نہ کہ تمہارا مقصد۔ غیر دینی مدارس کا جو فلسفہ ہے اس میں انسان کے لئے آزادی کا پیغام تو موجود ہے مگر آزادی کی حدود (limitations) کا کوئی تعین نہیں۔ اس کا ایک نتیجہ وہ ہے جو جدید ترقی یافتہ ملکوں میں بے قید جنسی تعلقات اور بے قید لذت پسندی کی صورت میں پایا جاتا ہے۔ غیر دینی درسگاہوں میں اس بے قیدی پر روک لگانے کا کوئی قانون نظری طور پر موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان سماجوں میں ظاہری ترقیوں کے باوجود حقیقی انسانیت کا ارتقاء ممکن نہ ہو سکا۔ اس کے برعکس دینی درسگاہوں کا معاملہ یہ ہے کہ ان کی بنیاد خدائی شریعت کے اصول پر قائم ہے۔ چنانچہ دینی درسگاہوں کے فلسفۂ تعلیم میں انسان کے لئے جس طرح آزادی ایک معلوم اصول کی حیثیت رکھتی ہے اسی طرح یہاں یہ بھی پوری طرح معلوم ہے کہ آزادی کے حدود کیا ہیں۔ کب تک آزادی ایک رحمت ہے اور وہ کون سی حد ہے جس سے تجاوز کرنے کے بعد آزادی اس کے لئے برعکس طور پر عذاب بن جائے گی۔

۳۔ غیر دینی تعلیم گاہوں میں عام طور پر جو اصول حیات پایا جاتا ہے وہ اضافیت (relativity) کا اصول ہے۔ یعنی اس دنیا میں ہمارا علم اور ہمارا ہر نظریہ اضافی حیثیت رکھتا ہے نہ کہ حقیقی۔ اس فلسفہ کا نتیجہ یہ ہے کہ جدید تعلیم گاہوں میں اخلاق بھی ایک اضافی چیز بن کر رہ گیا ہے۔ یہاں ہر اصول صرف

‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues

Printed page