Al-Risala · September 2000 · page 51

دینی مدارس کا امتیاز

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۵۱

اضافی قدر رکھتا ہے۔ یہ نظریہ اپنی آخری حد پر پہنچ کر اس فلسفہ کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس کو افادیت (utilitarianism) کہا جاتا ہے۔ اس کے مطابق صرف وہی چیز قابل قدر ہے جو اپنے اندر معلوم مادی افادیت رکھتی ہو، جو چیز اس صفت سے خالی ہو وہ قابل لحاظ ہی نہیں۔ اس نظریہ کے تحت تعلیم پائے ہوئے لوگ صرف یہ کر سکتے ہیں کہ وہ انسانی سماج کو ایک قسم کا حیوانی جنگل بنادیں۔ اور اس تعلیمی نظام نے عملا یہی کارنامہ انجام دیا ہے۔

دینی مدارس کا فلسفہ اس کے برعکس ابدی حقیقت کے اصول پر قائم ہے۔ دینی مدارس کے پاس ہر معاملہ میں اللہ کا ایک معلوم حکم موجود ہوتا ہے۔ انہیں یہ یقین ہوتا ہے کہ یہ حکم سراسر برحق ہے اور اس بنا پر وہ ناقابل تغییر ہے۔ وہ ابدی طور پر قابل اتباع ہے۔ یہ فلسفه فطری طور پر ابدی اخلاقیات (eternal ethics) کا تصور پیدا کرتا ہے۔ اس کے تحت وہ مستحکم اخلاقی نظام بنتا ہے جس میں کسی بھی حال میں تبدیلی کا کوئی سوال نہیں۔

۴- غیر دینی تعلیمی نظام میں ایک بڑا خلایہ ہے کہ اس کو کسی بھی معاملہ میں نقطہ آغاز (starting point) کا علم نہیں ہے۔ اس کا سارا انحصار ذاتی تجربات اور مشاہدات پر ہوتا ہے۔ انسان اپنی لازمی محدودیت (limitation) کی بنا پر کبھی یہ جان نہیں پا تا کہ کسی معاملہ کا حقیقی نقطہ آغاز کیا ہے۔ اس لئے ایسی درسگاہوں میں تربیت پائے ہوئے ذہن ابدی طور پر فکری ٹھوکریں کھاتے رہتے ہیں، وہ کبھی علم حقیقی کے درجہ تک نہیں پہنچتے۔ اس کے برعکس دینی درسگاہ اپنے الہی علم (divine knowledge) کی بنا پر اس حیثیت میں ہوتی ہے کہ وہ ہر معاملہ میں پہلے ہی قدم پر صحیح نقطہ آغاز کو پالے اور پیچے فکری ٹھوکر کھانے سے بچ جائے۔

اس کی ایک مثال ارتقاء حیات کا فلسفہ ہے۔ اس معاملہ میں غیر دینی درسگاہوں میں تعلیم پائے ہوۓ افراد کے پاس نقطۂ آغاز کے لئے کوئی معلوم اصول موجود نہ تھا، انھوں نے ارگل سے حیاتیاتی ارتقاء کا مفروضہ (hypothesis) قائم کیا۔ سو سال سے بھی زیادہ مدت تک اس مفروضہ کو واقعہ ثابت کرنے کے لئے بے شمار اعلیٰ دماغوں نے اس پر اپنی عمریں صرف کر دیں۔ اس پر ہزاروں بلین ڈالر خرچ کئے گئے۔ مگر ان کا مفروضہ آج بھی صرف مفروضہ ہے، بلند بانگ دعووں کے باوجود کسی بھی درجہ میں

‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues

Printed page