Al-Risala · September 2000 · page 54

دینی مدارس کا امتیاز

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۵۴

کی بنا پر اس کمزوری سے پیشگی طور پر محفوظ ہوتے ہیں۔

یہ چند مثالیں بتاتی ہیں کہ دینی مدارس اور غیر دینی مدارس میں کتنا زیادہ فرق پایا جاتا ہے۔ دینی مدارس حقیقی علم پر قائم ہیں، اس کے مقابلہ میں سیکولر مدارس غیر حقیقی علم پر۔ یہ فرق بے حد بنیادی ہے۔ اس فرق کا یہ نتیجہ ہے کہ جس پہلو سے بھی دونوں کے درمیان تقابل کیا جائے دینی مدارس ہر اعتبار سے سیکولر مدارس پر فائق نظر آئیں گے۔

دینی مدارس اور غیر دینی مدارس کے فرق کے بارے میں جو کچھ لکھا گیا، وہ اصولی اعتبار سے لکھا گیا ہے۔ جہاں تک عملی حیثیت کا تعلق ہے، دینی مدارس میں بہت سی خامیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کی جاسکتی ہے۔ مگر بنیادی بات یہ ہے کہ جو غیر دینی تعلیم گاہوں میں جو کمیاں ہیں وہ عین ان کے اصول اور فلسفہ کی بنا پر ہیں۔ اور اس اعتبار سے وہ ان کے نظام کا لازمی حصہ ہیں۔ جب کہ دینی تعلیم گاہوں میں جو کمیاں پائی جاتی ہیں وہ ان کی عملی کوتاہی کا نتیجہ ہیں نہ کہ نظریہ تعلیم میں نقص کا نتیجہ۔ اور یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ عملی کوتاہی کو اصلاحی کوشش سے دور کیا جاسکتا ہے، جب کہ نظریاتی نقص کو اس وقت تک دور نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ خود نظریہ ہی کو غلط قرار دے کر اس کو رد نہ کر دیا جائے۔ اقوال دلاویز ہیں ۔ یہ کتاب اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے،

‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues

Printed page