Al-Risala · September 2000 · page 53

دینی مدارس کا امتیاز

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۵۳

اس نظریہ کا عملی تجربہ بتاتا ہے کہ وہ ہلاکت خیز حد تک غلط ہے۔ اس ذہن کے لوگ اپنی ساری عمران چیزوں کے حصول میں لگا دیتے ہیں جن کو وہ بظاہر خوشی و لذت کا ذریعہ سمجھتے ہیں مگر جب ہزار کوشش کے بعد وہ ان مطلوب چیزوں کا ڈھیر اکٹھا کر لیتے ہیں تو اچانک ان کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ چیزیں خواہ کتنی ہی زیادہ ہوں، وہ انھیں لذت ومسرت دینے والی نہیں۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ انسان اپنی فطری صلاحیت کے اعتبار سے لامحدود استعداد (unlimited capacity) کا مالک ہے۔ جب کہ دنیا کی ہر چیز محدود خوشی اور محدود لذت ہی دے سکتی ہے۔ گویا انسان اپنی طلب کے اعتبار سے کامل تسکین چاہتا ہے جب کہ مادی چیزیں اپنی محدودیت کی بنا پر اس کو جزئی تسکین ہی دے سکتی ہیں۔ اسی فرق کا نتیجہ وہ چیز ہے جس کو اکتاہٹ (boredom) کہا جاتا ہے۔ طالب اور مطلوب کے درمیان یہ فرق اتنا زیادہ حتمی ہے کہ کسی بادشاہ کے لئے بھی اس کو ختم کرنا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم یہ دیکھتے ہیں کہ دنیا میں مادی ساز و سامان کی بے پناہ کثرت ہے مگر ان سامانور نے انسان کو جو چیز دی ہے وہ صرف مایوسی (frustration) ہے نہ کہ تسکین، جس کو حاصل کرنے کے لئے یہ مادی سازو سامان فراہم کیا گیا تھا۔ دینی مدرسہ میں تعلیم و تربیت پائے ہوئے انسان کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ ایسے لوگ جس فلسفہ حیات کا سبق لے کر اپنی مادر علمی سے نکلتے ہیں وہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کے لئے ہے نہ کہ حصول مسرت کے لئے۔ یہ نقطہ نظر ان کے رویہ کو یکسر بدل دیتا ہے۔ وہ دنیا کی کامیابی کے بجائے آخرت کی کامیابی کو اپنی منزل بناتے ہیں۔ دنیا میں عیش ڈھونڈنے کے بجائے آخرت میں جنت کا حصول ان کا نشانہ بن جاتا ہے۔

سوچ کے اس فرق کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دینی مدارس میں تعلیم پائے ہوئے لوگ عیش (luxury) کے بجائے ضرورت کو اپنی توجہ کا مرکز بناتے ہیں۔ وہ فراوانی (abundance) کے بجائے قناعت کے اصول پر راضی رہتے ہیں۔ کل کی خوشی کا احساس ان کے لئے آج کے غم کو ہلکا کر دیتا ہے۔ وہ کبھی مایوسی سے دوچار نہیں ہوتے، کیوں کہ جو کچھ انھیں موجودہ دنیا میں ملتا ہے اسی کو وہ اپنے لئے کافی سمجھتے ہیں۔ ان کا سینہ حرص اور حسد جیسے منفی احساسات سے پاک ہوتا ہے۔ کیوں کہ حرص اور حسد جیسے احساسات مادی کمی کی زمین پر ابھرتے ہیں، اور دینی تعلیم کے تربیت یافتہ لوگ اپنے غیر مادی ذہن

‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues

Printed page