Al-Risala · September 2000 · page 60

تجربات کی روشنی میں

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۶۰

تجربات کی روشنی میں

دینی مدرسہ میں تعلیم کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی دنیا کی باتوں سے بے خبر رہ جائے۔ یہ عین ممکن ہے کہ آدمی باقاعدہ طور پر صرف دینی درس گاہ میں تعلیم پائے، اس کے باوجود وہ ان علوم و معارف سے باخبر ہو جن کو دنیا کے علوم و معارف کہا جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال میں خود ہوں۔ میری باقاعدہ تعلیم دینی مدرسہ یا علماء کی صحبتوں میں ہوئی۔ مگر اس کے بعد میں نے اللہ کے فضل سے بیشتر سیکولر علوم کا مطالعہ کیا، پا مستری سے لے کر اسٹرا نومي تک شاید ہی کوئی علم ہو جس کو میں نے نہ پڑھا ہو۔ اس کا راز یہ تھا کہ میں نے مدرسہ سے فراغت کے بعد ذاتی محنت سے انگریزی زبان اچھی طرح سیکھ لی۔ انگریزی سیکھتے ہی میری دسترس تمام علوم تک ہو گئی۔ دوسری طرف میں اپنے دعوتی مزاج کی بنا پر ملک کے اندر اور ملک کے باہر بہت زیادہ اسفار کرنے لگا۔ اس طرح انگریزی زبان اور عمومی اختلاط (interaction) میرے لئے تمام علوم سے واقفیت کے لئے کافی ہو گیا۔ مدارس کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہر زمانہ میں کثیر تعداد میں ایسے لوگ رہے ہیں جن کی تعلیم اصلاً مدرسہ میں ہوئی لیکن اس کے بعد انھوں نے دنیوی علوم میں بھی مہارت حاصل کرلی اور یہ سب ان کی ذاتی محنت سے ممکن ہوا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مختلف علوم کو حاصل کرنے کے سلسلہ میں اصل اہمیت کھلے ذہن (open mind) کی ہے۔ اگر آدمی جمود ذہنی میں مبتلا نہ ہو، اگر وہ کھلے دل و دماغ کے ساتھ ہر چیز کو دیکھے اور ہر چیز کو پڑھے تو پوری دنیا اس کے لئے ایک عظیم درسگاہ بن جائے گی۔ وہ ہر لمحہ نئی نئی باتیں سیکھے گا۔ ہر روز وہ نئے علم سے واقفیت حاصل کرے گا۔ ڈگری کی حیثیت صرف پہچان کی ہے۔ جہاں تک علم کا تعلق ہے، اس کو آدمی ذاتی محنت سے حاصل کرتا ہے۔ اور ذاتی محنت کا دروازہ کبھی کسی کے لئے بند نہیں ہوتا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وسعت علم کے لئے اصل اہمیت اس مزاج کی ہے جو حضرت عمر فاروق کے اندر پایا جاتا تھا، جیسا کہ ان کے بارے میں کہا گیا ہے : کان يتعلم من كل احد۔ یہ بات مدرسہ کے مقاصد میں شامل ہے کہ رسمی تعلیم کے علاوہ وہ طالب علم کے اندر اس قسم کا معلمانہ ذوق پیدا کرے۔ تعلیم (education) کیا ہے۔ فنی بحثوں سے قطع نظر تعلیم کا مقصد بنیادی طور پر ایک ہے، اور

‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues

Printed page