Al-Risala · September 2000 · page 59

مدرسہ کلچر

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۵۹

تک جنگ کی شرط کا تعلق ہے تو وہ دعوت کا پہنچنا ہے۔ اور اس پر اتفاق ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان سے جنگ کرنا جائز نہیں یہاں تک کہ ان پر دعوت پہنچ گئی ہو۔ اور یہ ایک ایسی چیز ہے جس پر مسلمان متفق الرائے ہیں۔ اس کی بنیاد قرآن میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ ہم کسی کو عذاب نہیں دیتے جب تک کہ ہم اس کے پاس رسول نہ بھیج دیں۔

استاد مرحوم نے اس عبارت کی جو تشریح کی اس سے مجھے ایک اہم دینی نکتہ ملا۔ ابتدائی دور میں وہ کسی قدر مبہم صورت میں تقابل کے مطالعہ سے وہ زیادہ واضح ہوتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ میری سمجھ میں آیا کہ دین اسلام میں جنگ یا ٹکراؤ صرف ثانوی انتخاب (secondary option) ہے، وہ پہلا انتخاب (first option) نہیں۔ کسی فرد یا قوم سے نزاع کی صورت پیش آئے تو پہلی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ پرامن بات چیت کے انداز میں مسئلہ کو حل کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے ہر ممکن ذریعہ اختیار کیا جائے۔ پرامن کوشش جب اتمام حجت کے درجہ کو پہنچ جائے اور اس کے باوجود فریق ثانی ٹکراؤ پر قائم رہے تو اس کے بعد ثانوی انتخاب کے طور پر جنگ قابل غور ہوگی۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues

Printed page