Al-Risala · September 2000 · page 62

تجربات کی روشنی میں

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۶۲

(formative period) ہی میں اس کو مطالعہ اور استنباط کا صحیح رخ مل جائے۔ یہ رخ استاد اور ادارہ دونوں سے ملتا ہے۔ ایک لائق استاد گویا ایک زندہ لائبریری ہوتا ہے جو طالب علم کو بہترین رہنمائی دیتا رہتا ہے۔ اسی طرح ادارہ کا ماحول اگر تعمیری اور صحت مند ہو تو وہ شعوری اور غیر شعوری طور پر طالب علم کی علمی شخصیت کی تکمیل میں موثر و مددگار ثابت ہوتا ہے۔

یہاں میں علامتی طور پر ان میں سے صرف چند ذاتی تجربات کا ذکر کروں گا۔ تاہم یہ کسی ایک فرد کی کہانی نہیں ہے بلکہ وہ میرے جیسے ان لاکھوں لوگوں کی کہانی ہے جن کو مدارس سے فیضیاب ہونے کا موقع ملا۔ اور پھر انھوں نے دنیا میں ایک کامیاب زندگی گزاری۔

۱۔ مدرسۃ الاصلاح میں قرآن خصوصی طور پر داخل نصاب تھا۔ یہاں مجھے یہ موقع ملا کہ میں مشہور اور ممتاز عالم مولانا امین احسن اصلاحی (صاحب تدبر القرآن) سے براہ راست قرآن کی تعلیم حاصل کروں۔ مولانا محترم اس وقت مدرسہ میں استاد تفسیر بھی تھے اور صدر مدرس بھی۔ ایک روز درسِ قرآن کے دوران قرآن کے تیسویں پارہ کی یہ آیت سامنے آئی: افلا ينظرون الى الابل كيف خلقت ۔ (الغاشیہ ۱۷) استاد محترم مولانا امین احسن اصلاحی (وفات ۱۹۹۸) نے اس موقع پر طلبہ سے سوال کیا کہ اونٹ کے سم پھٹے ہوتے ہیں یا جڑے ہوتے ہیں۔ یعنی بیل کی مانند ہوتے ہیں یا گھوڑے کی مانند۔ اس وقت ہماری جماعت میں تقریباً ۲۰ طالب علم تھے۔ مگر کوئی بھی شخص یقین کے ساتھ اس کا جواب نہ دے سکا۔ ہر ایک اٹکل سے کبھی ایک جواب دیتا اور کبھی دوسرا جواب۔

اس کے بعد استاد محترم نے ایک تقریر کی۔ انھوں نے کہا کہ تمہارے جوابات سے اندازہ ہوتا ہے کہ تم لوگ اونٹ کے سم کی نوعیت کے بارے میں نہیں جانتے۔ پھر انھوں نے عربی زبان کا یہ مقولہ سنایا ”لا ادری نصف العلم (میں نہیں جانتا، آدھا علم ہے) اس کی تشریح کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر تم لوگ یہ جانتے کہ تم اونٹ کے سم کے بارے میں بے خبر ہو تو گویا کہ اس معاملہ میں تمہارے پاس آدھا علم موجود ہوتا۔ کیوں کہ اپنی لا علمی کو جاننے کے بعد تمہارے اندر یہ شوق پیدا ہو تا کہ تم اپنے علم کو مکمل کرنے کے لئے یہ معلوم کرو کہ اونٹ کے سم کیسے ہوتے ہیں۔ اگر لا ادری کا شعور تمہارے اندر بیدار ہو تا تو اونٹ پر نظر پڑتے ہی تم اس کے سم کو غور سے دیکھتے اور پھر تم اپنے نہ جاننے کو جاننا جاتے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues

Printed page