تجربات کی روشنی میں
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۶۵
طرف جا رہا تھا جہاں جوتے اتارے جاتے تھے۔ سانپ اگر چہ زیادہ بڑا نہ تھا تاہم سانپ تو سانپ ہے۔ مگر میں نے دیکھا کہ پوری جماعت میں کوئی بھگدڑ نہیں ہوئی۔ لوگ بدستور اپنی جگہ کھڑے رہے۔ اور سانپ لوگوں کے درمیان سے گزرتا ہوا باہر چلا گیا۔ اس واقعہ کی صورت میں میں نے گویا مشاہداتی تجربہ کیا کہ نماز آدمی کے اندر کس قدر نظم و ضبط پیدا کرتی ہے۔
ایک مرتبہ مدرسہ کے صدر مدرس مولانا امین احسن اصلاحی مرحوم نماز کے بعد مسجد میں تقریر کے لئے کھڑے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ نماز میں آپ کو مل کر عمل کرنے کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کا تعلق صرف مسجد تک نہیں ہے، مسجد سے باہر کی زندگی بھی آپ کو اسی طرح لقم واتحاد کے ساتھ گزارنی ہے۔ وہ زبردست مقرر تھے۔ تقریر کرتے ہوئے انھوں نے باب تفاعل کے چند الفاظ استعمال کئے جو عربی میں مشارکت کا مفہوم رکھتا ہے۔ مثلاً توافق، تشارك، تعامل، وغیرہ۔ اس کے بعد انہوں نے خطیبانہ انداز میں کہا: ”باب تفاعل کے سارے صیغے گردان ڈالو۔ “ اس طرح ہر مدرسہ میں پنج وقتہ نماز با جماعت کی صورت میں اتحاد اور ڈسپلن کی تعلیم دی جاتی ہے۔ گویا ہر مدرسہ عملاً نظم اور ڈسپلن کا تربیتی سنٹر بنتا ہے۔
دینی مدارس کے اس پہلو کی مزید اہمیت یہ ہے کہ مدرسہ کے نظام میں نظم اور ڈسپلن صرف ایک انسانی سلوک یا سماجی کلچر کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ نماز سے وابستہ ہونے کی بنا پر اس کو مقدس فریضہ کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ اسلامی تعلیم کے مطابق ڈسپلن کو نماز کے ساتھ جوڑ کر اس کو ایک مقدس انسانی فریضہ بنا دیا گیا ہے۔
جو لوگ مجھ سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ میرے مزاج میں حد درجہ نظم اور ڈسپلن ہے۔ ڈسپلن میری طبیعت ثانیہ (second nature) بن گئی ہے۔ میرا یہ مزاج غالباً اس مسلسل تربیت کا نتیجہ ہے جو مدرسہ کے دور حیات میں مجھے حاصل ہوئی۔ مدرسہ کا عبادتی ڈسپلن میرے مزاج میں اس طرح داخل ہوا کہ وہ پھر کبھی مجھ سے جدا نہ ہو۔
اس اعتبار سے دیکھئے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ہر مدرسہ گویا نظم و ڈسپلن کا ایک ٹریننگ سنٹر ہے، وہ زندگی کو منظم انداز (disciplined way) میں گزارنے کی ایک مستقل تربیت گاہ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues