Al-Risala · September 2000 · page 64

تجربات کی روشنی میں

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۶۴

نے اپنے ایک شعر میں اس طرح نظم کیا ہے:

زیست کا راز کھلا گردش ایام کے بعد اس کہانی کا تو آغاز تھا انجام کے بعد ۳۔ مدرسہ کے ماحول میں عملی اعتبار سے جس چیز کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے وہ رات اور دن کے درمیان پانچ وقت کی نمازیں ہیں۔ باجماعت نماز کا نظام مدرسہ کی زندگی میں مرکزی حیثیت (central position) رکھتا ہے۔ نماز اگرچہ اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے اللہ کی قربت تلاش کرنے کا نام ہے لیکن اس کا عملی اور ظاہری ڈھانچہ اس طرح مقرر کیا گیا ہے کہ وہ مزید اس چیز کی مکمل تربیت بن جاتی ہے جس کو ڈسپلن کہا جاتا ہے۔ اس طرح ہر مدرسہ عملی طور پر نظم اور ڈسپلن کا ایک تربیتی سنٹر ہوتا ہے۔ مدرسہ کے نظام کے ساتھ ڈسپلن کا اضافہ اس کی اہمیت کو کئی گنا زیادہ بڑھادیتا ہے۔ پانچ وقتہ نماز میں ڈسپلن کا یہ پہلو فرد کی روزانہ زندگی کو منظم کرتا ہے۔ اس کے رات دن کے اوقات گھڑی کی سوئی کی طرح نظم و ضبط کے ساتھ گزرنے لگتے ہیں۔ اس قسم کے منظم افراد سے جو مجموعی سماج بنتا ہے وہ اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ کوئی بھی طوفان اس کو ہلا نہ سکے۔ الفضل ما شهدت به الاعداء کے اصول پر یہاں قدیم ایران کے مجوسی سپہ سالار رستم کا ریمارک قابل ذکر ہے جو اس نے نماز کے اجتماعی پہلو پر کیا تھا۔ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں جب مسلم فوجیں ایران میں داخل ہوئیں تو اس وقت وہاں مسقف مسجدیں نہ تھیں۔ چنانچہ یہ لوگ ہزاروں کی تعداد میں کھلے میدان میں باجماعت نماز ادا کرنے لگے۔ رستم نے باجماعت نماز کے منظر کو دیکھا تو اس نے چیخ کر کہا: اکل عمر کبدی، يعلم الكلاب الآداب (مقدمہ ابن خلدون، صفحه ۱۵۲) میں جس زمانہ میں مدرسہ میں پڑھتا تھا وہاں باجماعت نماز کی نگرانی مدرسہ کے ایک سینئر استاد مولانا اختر احسن اصلاحی مرحوم کرتے تھے۔ وہ صبح کو فجر کی اذان کے فوراً بعد ہاسٹل میں آکر طلبہ کو جگایا کرتے تھے۔ اس وقت میں نوجوانی کی عمر میں تھا۔ میری نیند مشکل سے کھلتی تھی۔ چنانچہ مولانا مرحوم میرے بارے میں کہتے: ”یہ بہت سخت سوتا ہے۔ “ مجھے یاد ہے، ایک مرتبہ مسجد کے وسیع اور کھلے صحن میں نماز کی صفیں کھڑی ہوئی تھیں۔ غالباً عشاء کی نماز ہو رہی تھی۔ اچانک ایک سانپ مسجد کے اندر داخل ہو گیا۔ وہ صفوں سے گزرتا ہوا پیچھے کی

‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues

Printed page