تجربات کی روشنی میں
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۶۷
پر سیکولر تعلیم گاہوں میں پایا جاتا ہے۔
مدرسہ کی یہ تربیت میرے لئے زندگی کے دور میں میرا سب سے بڑا سرمایہ بنی رہی۔
کسی بڑے کام کا حوصلہ اللہ پر اعتماد کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ اور یہی سرمایہ مدرسہ سے مجھ کو حاصل ہوا۔ مجھے اپنے مقصد حیات کے اعتبار سے مادی ذرائع سے زیادہ اللہ پر بھروسہ کرنا تھا۔ اس قسم کے مشکل فیصلہ پر قائم رہنا میرے لئے زیادہ تراسی مدرسی تربیت کی بنا پر ممکن ہو سکا۔ احیاء دعوت کا مشن جو میں نے اپنی زندگی میں اختیار کیا وہ حدیث کی زبان میں معروف دین کے مقابلہ میں اجنبی دین کے لئے کھڑا ہونا تھا۔ یہ بلاشبہ اس آسمان کے نیچے سب سے زیادہ مشکل مشن ہے۔ اس میں آدمی کو اکیلا ہی سفر کرنا پڑتا ہے۔ پہاڑوں اور سمندروں کو عبور کرنا آسان ہے مگر اجنبی دین کو لے کر چلنا آسان نہیں۔ اللہ کے فضل سے میں اس دشوار ترین منصوبہ پر ہر قسم کی رکاوٹوں اور ناموافق حالات کے باوجود قائم رہا۔ یہاں تک کہ فضا تبدیل ہو گئی۔ اس انجام کو دیکھنے کے لئے مجھے ۴۰ سال کا صبر آزما انتظار کرنا پڑا۔ اور اس قسم کا انتظار اعتماد علی اللہ کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues