Al-Risala · September 2000 · page 68

غیر سیاسی ایمپائر

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۶۸

غیر سیاسی ایمپائر

لارڈ میکالے کی مذکورہ تعلیمی اسکیم کا مطلب یہ تھا کہ برصغیر ہند کے مسلمانوں کو انگلش کلچر کے رنگ میں رنگ دیا جائے۔ اس وقت ہندوستان کے علماء اگر یہ کرتے کہ لارڈ میکالے کے خلاف احتجاج کا طوفان برپا کرتے، انگریز وائسرائے پر بم مارتے، یا انگریزی اسکولوں اور کالجوں میں آگ لگاتے تو اس کا کچھ بھی نتیجہ حاصل نہ ہوتا بلکہ اس قسم کی منفی سرگرمیاں مسلمانوں کی تباہی میں شاید کچھ اور اضافہ کر دیتیں۔ جیسا کہ ۱۸۵۷ کے متشددانہ تجربہ کے بعد پیش آیا۔

اس کے بجائے علماء اسلام نے یہ کیا کہ لارڈ میکالے کے تعلیمی منصوبہ کے مقابلہ میں ایک جوابی تعلیمی منصوبہ بنایا۔ انہوں نے خاموشی کے ساتھ پورے ملک میں مدارس قائم کرنے کی جدوجہد شروع کر دی۔ زندگی میں جب بھی آپ کوئی منصوبہ لے کر اٹھیں تو سب سے پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ آپ کا منصوبہ حقیقی حالات کے لحاظ سے قابل بقا (sustainable) ہے یا نہیں۔ اس دنیا میں کوئی بھی منصوبہ ہمیشہ بہت دیر میں اپنا نتیجہ دکھاتا ہے۔ شاہ بلوط (oak) کے درخت کو مکمل درخت بننے کے لئے ایک سو سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ اسی طرح قومی منصوبے بھی لمبی مدت کے بعد تکمیل کو پہنچتے ہیں۔ ایسی حالت میں کوئی ایسا منصوبہ کبھی نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا جو تھوڑے دن کی دھوم کے بعد اچانک ختم ہو جائے۔ اس دنیا میں وہی منصوبہ حقیقی معنوں میں منصوبہ ہے جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ تاریخ میں مسلسل جاری رہ سکے۔ مدارس دینیہ کی تحریک اسی قسم کی ایک قابل بقا تحریک تھی۔ چنانچہ وہ آغاز کے بعد مسلسل جاری رہی۔ انیسویں صدی کے نصف آخر میں وہ بلا رکاوٹ چلتی رہی پھر بیسویں صدی میں وہ مسلسل جاری رہی اور اب اس نے کامیابی کے ساتھ اکیسویں صدی میں قدم رکھ دیا ہے۔

اس مدت میں ہندوستان میں لاکھوں کی تعداد میں مکتب اور مدرسہ اور دارالعلوم (جامعہ) قائم ہوئے۔ حتیٰ کہ سارے ملک میں دینی اداروں اور تعلیم گاہوں کا ایک جال (network) وجود میں آگیا جو نسل در نسل لوگوں کو تعلیم یافتہ بناتا رہا۔

جیسا کہ معلوم ہے علم زندگی کا کوئی ایک شعبہ نہیں۔ براہ راست یا بالواسطہ طور پر علم کا تعلق زندگی

‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues

Printed page