مدارس سنٹر
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۷۵
ثانی کی جاتی رہے۔ جیسا کہ سیکولر نظام تعلیم میں عام طور پر کیا جاتا ہے۔ ۴ مدارس سنٹر کا ایک کام یہ ہوگا کہ وہ مدارس کے تعاون سے ایسی فضا پیدا کریں جس میں موجودہ نصاب پر نظر ثانی کے مسئلہ کو ممکن بنایا جا سکے۔ مدارس کے حلقہ میں لمبے عرصہ سے یہ بحث جاری ہے کہ مدارس کے مروجۂ نصاب پر نظرثانی کر کے اس کو مطابق حال بنایا جائے۔ مگر عملاً اس کی طرف بہت کم پیش قدمی ہو سکی ہے۔
مدارس کے موجودہ نصاب میں قرآن اور سیرت اور تاریخ اسلام کا حصہ بہت کم پایا جاتا ہے۔ ضرورت ہے کہ نصاب کی اس کمی کو پورا کیا جائے۔ اسی طرح حدیث کو اصلا حدیث کے طور پر نہیں پڑھایا جاتا بلکہ اس کو فقہ کے ذیل میں پڑھایا جاتا ہے۔ اس پہلو پر بھی دوبارہ غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح موجودہ نصاب میں ”فرق ضالہ“ کے نام پر بہت سی چیزیں داخل نصاب ہیں۔ حالاں کہ یہ فرقے قدیم فرقے ہیں جو اب عملاً معدوم ہو چکے ہیں۔ ضرورت ہے کہ طلبہ کو اس کے بجائے آج کے گمراہ فرقوں کے بارے میں معلومات دی جائیں، نہ کہ گزرے ہوئے فرقوں کے بارے میں۔ اسی طرح معقولات کے نام پر جو کتابیں مدارس کے موجودہ نصاب کا جزء ہیں وہ اب عملاً غیر مفید ہو چکی ہیں۔ ضرورت ہے کہ اس کے بجائے طلبہ کو جدید معقولات سے واقف کر لیا جائے تاکہ وہ آج کے ذہن کے سامنے اسلام کی مدلل نمائندگی کر سکیں۔
اس قسم کی متعدد چیزیں ہیں جو موجودہ نصاب پر نظر ثانی کا تقاضا کرتی ہیں۔ یہ نظرثانی مدارس کے تعاون ہی کے ذریعہ انجام دی جاسکتی ہے۔ مدارس سنٹر کا ایک اہم کام یہ ہوگا کہ وہ اس نظرثانی کے لئے حالات فراہم کرے۔ ۔
۵ مدارس کے موجودہ نصاب کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہو گا کہ وہ بڑی حد تک دعوت رخی (dawah-oriented) نصاب ہے۔ اس نصاب کو بنانے والوں کے ذہن میں غالباً یہ مقصد تھا کہ طلبہ کو اس طرح تیار کیا جائے کہ وہ مدارس سے فارغ ہو کر دعوت و تبلیغ کے کام کو موثر طور پر انجام دے سکیں۔ یہ بجائے خود ایک صحیح نہج تھا۔ مگر اب زمانہ اتنا بدل چکا ہے کہ عملی طور پر دیکھا جائے تو ہمارے مدارس ایسے مخاطبین کے لئے دعاۃ تیار کر رہے ہیں جن کا اب کہیں وجود نہیں۔ مثلاً یہ نصاب طلبہ کو
‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues