Al-Risala · September 2000 · page 77

مدارس سنٹر

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۷۷

اس سلسلہ میں یہاں میں اپنا ذاتی تجربہ بیان کروں گا۔ میرے اس تجربہ میں دوسرے لوگ بھی ایک عملی سبق پاسکتے ہیں۔

میں نے مدرسہ کی تعلیم کے زمانہ ہی میں ابتدائی انگریزی سیکھ لی تھی۔ لیکن انگریزی زبان میں اپنی استعداد کو بڑھانے اور اس کے ذریعہ جدید طبقہ تک اسلام کا پیغام پہنچانے کا جذبہ میری زندگی میں بعد کو شامل ہوا۔ اور آخر کار یہی میری زندگی کا اصل مشن بن گیا۔

انگریزی کو دعوت کا ذریعہ بنانے کا جذبہ میرے اندر کیسے پیدا ہوا، اس کے مختلف اسباب ہیں۔ ان میں سے ایک بلاشبہ وہ ہے جو علماء اسلام سے تعلق رکھتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں بہت سے علماء کو یہ احساس ہوا کہ عصری تقاضوں کے مطابق اسلام کی خدمت کرنے کے لئے انہیں مغربی زبان بھی سیکھنا چاہئے۔ مثال کے طور پر مولانا شبلی نعمانی نے علی گڑھ میں پروفیسر آرنلڈ سے فرانسیسی زبان سیکھنے کی کوشش کی اگرچہ وہ اس کو تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔ میں مدرسۃ الاصلاح میں اپنی تعلیم کے زمانہ میں دیکھتا تھا کہ میرے استاد مولانا اختر احسن اصلاحی ڈکشنری کی مدد سے انگریزی کتاب پڑھنے کی کوشش کرتے تھے۔ اگرچہ مجھے نہیں معلوم کہ ان کی یہ کوشش کہاں تک پہنچی۔ اس سلسلہ کا ایک سبق آموز واقعہ وہ ہے جو مولانا محمد قاسم نانوتوی سے تعلق رکھتا ہے۔ اس واقعہ کو مولانا مناظر احسن گیلانی کی کتاب سے لے کر ملخصاً یہاں نقل کیا جاتا ہے:

"حج کے سفر (۱۸۷۸ء) میں مولانا نانوتوی سے جہاز کے یورپین کپتان نے مذہبی سوالات کئے جن کا جواب ”ترجمان“ کے ذریعہ دیا گیا۔ کپتان آپ کے جوابوں سے غیر معمولی طور پر متاثر ہوا مولانا نانوتوی نے اس کے بعد عزم کر لیا تھا کہ حج سے فارغ ہونے کے بعد ہندوستان پہنچ کر وہ خود انگریزی زبان سیکھنے کی کوشش کریں گے۔ مولانا نانوتوی کا احساس تھا کہ ترجمان کے بغیر براہ راست تقریر سے کپتان زیادہ متاثر ہو سکتا تھا۔ مطلب جس کا یہی ہو سکتا ہے کہ دوسروں تک دین کی دعوت پہنچانے کے لئے انگریزی جیسی زبانوں کے سیکھنے کو بھی حضرت والا نے اپنے ”دینی مجاہدات“ کی فہرست میں شامل کر لیا تھا" (سوانح قاسمی از مولانا مناظر احسن گیلانی مطبوعہ دار العلوم دیوبند، صفحہ ۲۹۹۔ ۳۰۰ ، جلد۔ دوم)

‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues

Printed page