Al-Risala · September 2000 · page 80

مدارس سنٹر

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۸۰

مدارس قومی یکجہتی یا نیشنل فکرمید کرنے میں رکا وٹ ہیں۔ اسی طرح کچھ لوگوں کا یہ کہنا کہ یہ مدرسے جب تک قائم ہیں اس وقت تک ملک میں مجموعی ترقی نہیں ہوسکتی، کیوں کہ وہ مسلمانوں کو ملک کی مین اسٹریم میں داخل ہونے میں روک بنے ہوئے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

یہ الزامات بلا شبہ بے اصل اور بے بنیاد ہیں اور اگر سنجیدہ انداز میں کو شش کی جائے تو یقینی طور پر ان کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ مجوزہ مدارس سنٹر کا ایک ضمنی یا جزئی کام یہ بھی ہو گا کہ وہ مناسب انداز میں ان غلط فہمیوں کی تردید کرے۔ وہ بروقت ان کی حقیقت سے لوگوں کو واقف کرائے۔ غلط فہمیوں کا ازالہ بھی ایک اسلامی کام ہے جس کو قرآن میں تبین کہا گیا ہے۔

مدارس سنٹر کا اصل ایجابی کام یہ ہو گا کہ وہ مدارس اور اس کے نظام سے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ باخبر کرائے۔ وہ لوگوں کے سامنے مدارس کی صحیح تصویر پیش کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ مدارس کا صحیح تعارف ہی مدارس کے خلاف غلط فہمیوں کی کافی اور یقینی تردید ہے۔

مدارس سنٹر کا ایک کام یہ ہو گا کہ وہ ملک میں پھیلے ہوئے مدارس کے بارے میں معلومات جمع کرے۔ وہ ان کے درمیان اتحاد کی فضا قائم کرے۔ وہ مدارس کے مشترک مقاصد کے حصول کے لئے عمل کرے۔ وہ مدارس کے جال کو انفرادی دائرہ سے نکال کر ایک وسیع مشترک مجموعہ بنادے۔ خلاصہ یہ کہ مدارس سنٹر داخلی اعتبار سے مدارس کے لئے شیرازہ اتحاد ہو گا اور خارجی اعتبار سے مدارس کا اجتماعی نمائندہ۔ ایک اعتبار سے وہ مدارس کے استحکام کی علامت ہو گا اور دوسرے اعتبار سے مدارس کی آفاقیت کا محافظ۔ مدارس سنٹر کے قیام کی صورت میں مدارس کی افادیت اور مدارس کی طاقت دونوں میں نمایاں اضافہ ہو جائے گا۔ مدارس سنٹر گویا ایک غیر سیاسی ایمپائر کی غیر سیاسی راجدھانی ہوگا۔ وہ بیک وقت مرکز ملت بھی ہو گا اور اس کے ساتھ مرکز مدارس بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues

Printed page