Al-Risala · September 2000 · page 79

مدارس سنٹر

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۷۹

اس سے صرف نظر کرنا کسی بھی طرح درست نہیں۔

اس سلسلہ میں ایک سبق آموز واقعہ یہاں نقل ذکر ہے۔ کچھ عرصہ پہلے حکومت ہند کے ایک اعلی ذمہ دار ٹیلی فون کر کے میرے پاس آئے۔ انہوں نے کہا کہ میں ایک خاص مسئلہ میں آپ سے مشورہ کرنے کے لئے آیا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ نومبر 1999 میں انڈین ائر لائنز کا ایک جہাজ جب ہائی جیک کر کے نیپال سے قندھار لے جایا گیا تو اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے میں قندھار گیا تھا۔ وہاں میری ملاقات کچھ افغانی نوجوانوں سے ہوئی۔ ان سے ہم نے پوچھا کہ کیا آپ لوگ سیاحت کے لئے انڈیا آنا پسند کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہاں، جب ہم نے پوچھا کہ آپ انڈیا کے کن مقامات کو دیکھنا چاہیں گے تو انہوں نے سب سے پہلے دیوبند کا نام لیا۔ مزید سوال پر انہوں نے بتایا کہ ہم کو وہاں جانے سے دل چسپی اس لئے ہے کہ ہم بھی دیوبندی ہیں۔

حکومت کے مذکورہ ذمہ دار کی بات چیت سے اندازہ ہوا کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ دیوبند شاید جنگجوئی کی تربیت کا سینٹر ہے۔ افغانستان میں نیز ہندوستان کی سرحد پر جو تشدد عرصہ سے جاری ہے اس کی فکری تربیت کا مرکز شاید دیوبند ہے۔

ان کی یہ بات سن کر مجھ پر ہنسی آگئی۔ میں نے کہا کہ دیو بندی تو میں بھی ہوں۔ میری تعلیم مدرسۃ الاصلاح میں ہوئی۔ اس مدرسہ کا سنگ بنیاد دیوبند کے مولانا اصغر حسین نے رکھا تھا جو شیخ الہند مولانا محمود الحسن کے شاگرد تھے۔ پھر میں نے ان کو بتایا کہ دیوبندی یا دیوبندیت سے مراد وہ مسلک ہے جس میں اتباع سنت پر زور دیا جاتا ہے۔ اسی نسبت سے ان افغانی نوجوانوں نے اپنے کو دیوبندی بتایا۔ کیوں کہ افغانستان کے لوگ عرصہ دراز سے دینی تعلیم کے لئے دیو بند آتے رہے ہیں۔ اور وہ اپنے شرعی مسلک کے اعتبار سے دیوبند کے علماء پر اعتماد کرتے ہیں اس معاملہ کا سیاسی تشدد یا جنگ جوئی سے کوئی تعلق نہیں۔ میری اس وضاحت کے بعد وہ پوری طرح مطمئن ہو گئے۔

مدارس دینیہ کے خلاف اس قسم کی غلط فہمیاں بڑی تعداد میں ملک میں پھیلی ہوئی ہیں۔ دراصل یہی غلط فہمیاں ہیں جن کی بنا پر مدارس کے خلاف طرح طرح کی باتیں کہی جاتی ہیں، مثلا مدارس پر کنٹرول کرنے کے لئے قانون بنایا نیا کچھ لو گوں کی طرف سے بھارتیہ کرن کا نعرہ لگایا جاتا۔ یا کچھ لوگوں کا یہ کہنا کہ یہ

‹ Previous page Next page › Contents of September 2000 All issues

Printed page