جہاد قرآن میں
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۱۶
کے بند ہونے سے تم ڈرتے ہو اور وہ گھر جن کو تم پسند کرتے ہو، یہ سب تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم بھیج دے اور اللہ نافرمان لوگوں کو راستہ نہیں دیتا۔ (التوبہ ۲۴)
اس آیت میں اہل اسلام کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ قربانی کی حد تک جا کر اسلام کے دعوتی مشن میں پیغمبر کا ساتھ دیں۔ خواہ اس کام میں ان کے ذاتی مفادات مجروح ہوں یا مال اور تجارت کا نقصان ہو یا جسمانی مشقتیں برداشت کرنی پڑیں، ہر حال میں وہ اس دعوتی مشن میں پیغمبر کے ساتھی بنے رہیں۔ اس آیت میں جہاد فی سبیل اللہ کا لفظ اصلاً پیغمبر کے دعوتی مشن کے لئے آیا ہے نہ کہ جنگ کے لئے۔ قرآن کی دوسری سورہ میں حکم دیا گیا ہے کہ : تم منکرین کی بات نہ مانو اور ان کے ساتھ قرآن کے ذریعہ جہاد کبیر کرو (الفرقان ۵۲) اس آیت میں واضح طور پر جہاد سے مراد دعوتی جہاد ہے۔ کیوں کہ قرآن کے ذریعہ جہاد کا کوئی دوسرا مطلب نہیں ہو سکتا۔ یہ لفظ تیسری جگہ قرآن میں اس طرح آیا ہے : ان كنتم خرجتم جهادا فی سبیلی وابتغاء مرضاتی (الممتحنہ ۱) یعنی اگر تم میری راہ میں جہاد اور میری رضامندی کی طلب کے لئے نکلے ہو۔ یہ آیت فتح مکہ سے کچھ پہلے اتری۔ مدینہ سے مکہ کا سفر جنگ کے لئے نہ تھا۔ وہ دراصل ایک پر امن مارچ تھا جو صلح حدیبیہ کی صورت میں نکلنے والے پر امن نتائج کو حاصل کرنے کے لئے کیا گیا۔ چنانچہ اس موقع پر ایک مسلمان کی زبان سے یہ الفاظ نکلے : اليوم يوم الملحمة (آج کا دن لڑائی کا دن ہے) یہ سن کر رسول اللہ نے فرمایا کہ نہیں، آج کا دن رحمت کا دن ہے: اليوم يوم المرحمة۔ چوتھی بار قرآن میں یہ لفظ اس طرح آیا ہے: وجاهدوا فی الله حق جهادہ (الحج ۷۸) یعنی اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کا حق ہے۔ اس آیت میں جہاد سے مراد دعوتی جہاد ہے۔ یہ حقیقت اس کے سیاق سے بالکل واضح ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues