Al-Risala · October 2000 · page 21

Forts, Legacies of the past.

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۰، صفحہ ۲۱

پہلی بار شاہی داستان کے دائرہ سے نکال کر اس کو انسانی تاریخ کا موضوع بنایا۔ لندن کے برٹش میوزیم میں آج بھی ایسے قدیم سونے کے سکے رکھے ہوئے ہیں جن کو ڈھالنے کے لئے بغداد کے مسلم سکہ گر بلائے گئے تھے۔ چنانچہ ان مسلم سکہ گروں کے نام ان پر کندہ ہیں۔ مسلمانوں نے اپنے زمانہ عروج میں دنیا کو سب سے بڑی جو چیز دی وہ یہ ہے کہ انہوں نے جدید سائنس کے دور کا آغاز کیا۔ اس معاملہ میں انسانیت کے لئے مسلمانوں کی جو دین ہے اس کی تفصیل راقم الحروف کی کتاب ”اسلام دور جدید کا خالق“ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ جہاز کے اندر اعلانات ہوئے تو معلوم ہوا کہ اس جہاز کے کیپٹن مسٹر محبوب ہیں۔ یہ گویا اس بات کی علامت تھی کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے ترقی کے وہ تمام مواقع موجود ہیں جو کسی دوسرے کے لئے ہو سکتے ہیں۔

۱۹۴۷ سے لے کر اب تک مسلمانوں کے تقریباً لکھنے اور بولنے والے لوگ مسلمانوں کو یہ تاثر دیتے رہے تھے کہ ہندوستان ان کے لئے ایک پرابلم کنٹری ہے۔ میں غالباً پہلا شخص تھا جس نے مسلمانوں کو یہ بتانا شروع کیا کہ اس ملک میں ان کے لئے وہ تمام مواقع پوری طرح موجود ہیں جو کسی دوسرے ملک میں ہو سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں میرے مشن کے بارے میں طرح طرح کی غلط فہمیاں پیدا ہوئیں مگر میں نے اللہ کی توفیق سے اپنا مشن جاری رکھا۔ آج یہ حقیقت اتنی نمایاں ہو چکی ہے کہ بے آنکھ والے بھی اس کو دیکھ سکتے ہیں۔

اصل یہ ہے کہ اس معاملہ میں مسلم رہنماؤں کی نظر کچھ انتہا پسند ہندوؤں کے لکھے یا بولے ہوئے لفظوں پر تھی۔ اس کے برعکس میری نگاہ فطرت کے قوانین اور تاریخ میں کام کرنے والی قوتوں پر تھی۔ اور زندگی کا فیصلہ ہمیشہ تاریخی قوانین کے تحت ہوتا ہے، کسی لیڈر کا اخباری بیان اس کا فیصلہ نہیں کرتا۔

پٹنہ ائیر پورٹ پر میں اترا تو وہاں مولانا عبد الرحیم امدادی، مسٹر ایم ٹی خان، مولانا بدرالدین قاسمی، وغیرہ موجود تھے۔ ان لوگوں کے ساتھ روانہ ہو کر پہلے مسٹر ایم ٹی خان کی

‹ Previous page Next page › Contents of October 2000 All issues

Printed page