Al-Risala · October 2000 · page 22

Forts, Legacies of the past.

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۰، صفحہ ۲۲

رہائش گاہ (عدالت گنج) پہنچا۔ یہاں کچھ دیر قیام رہا اور لوگوں سے مختلف موضوعات پر بات ہوئی۔ مسٹر ایم ٹی خان ہائی کورٹ میں اچھے عہدے پر ہیں۔ اپنے عہدہ کے لحاظ سے ان کو موجودہ مکان سے زیادہ بڑا سرکاری مکان مل رہا تھا مگر ان کے ہندو پڑوسیوں نے سخت اصرار کیا کہ وہ یہیں رہیں، وہ دوسرے مکان میں نہ جائیں۔ چنانچہ انہوں نے موجودہ مکان ہی میں رہنے کا فیصلہ کیا۔

پٹنہ ریاست بہار کی راجدھانی ہے۔ بہار ہندوستان کی چند بڑی ریاستوں میں سے ایک ہے۔ اس کی ابتدائی تاریخ ۱۵۰۰ قبل مسیح تک جاتی ہے۔ ساڑھے تین ہزار سال کی اس طویل مدت کے درمیان بہار کے جغرافی نقشہ میں بھی بار بار تبدیلیاں ہوئی ہیں اور اس کے سیاسی نقشہ میں بھی۔ اس کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں۔ البتہ ایک سبق آموز بات یہاں قابل ذکر ہے۔ انسائیکلو پیڈیا برتانکا (۱۹۸۳) میں بہار پر چار صفحہ کا مقالہ شامل ہے۔ اس میں مسلم عہد اور برطانی عہد کے لئے حیرت انگیز طور پر دو مختلف قسم کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ مثلاً بہار میں برطانی عہد کا تذکرہ کرتے ہوئے ”برطانیہ کے تحت “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے: Under the British it formed a part of the Bengal presidency until 1912 (2/984)

اس کے بعد انسائیکلو پیڈیا کے اسی مقالہ میں جب مسلم عہد کا تذکرہ کیا گیا ہے تو ہر عکس طور پر وہاں ”مسلم حملہ آور “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو: The name Bihar (Vihar) dates back to about AD 1200 and was given by the Muslim invaders who were struck by the large number of Buddhist monasteries (viharas) they saw. (2/984)

تاریخ نویسی کا یہ غیر علمی انداز ہر قوم اور ہر گروہ میں یکساں طور پر پایا جاتا ہے۔ غالباً یہ سب سے بڑی وجہ ہے جو اس میں رکاوٹ بن گئی کہ انسانی سوچ کا ارتقاء حقیقت پسندانہ بنیاد پر ہو سکے۔ انسانی تاریخ کو مجرد طور پر خارجی حقائق کی روشنی میں لکھنا چاہئے نہ کہ ذاتی تعصبات کی روشنی میں۔ ۲۵ مئی ۲۰۰۰ کی شام کو پٹنہ سے موتی ہاری کے لئے روانگی ہوئی۔ بارش کی وجہ سے

‹ Previous page Next page › Contents of October 2000 All issues

Printed page