Forts, Legacies of the past.
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۰، صفحہ ۲۳
موسم بہت خوش گوار ہو گیا تھا۔ مگر سڑک کا معاملہ اس کے برعکس تھا۔ ہماری گاڑی ہر قدم پر اس طرح ہچکولے کھاتی ہوئی چل رہی تھی جیسے کہ ہم پختہ سڑک پر نہ چل رہے ہوں بلکہ کسی کچی سڑک پر چل رہے ہوں۔
آزادی کے بعد جن ہندوستانی لیڈروں کے ہاتھ میں ملک کی باگ ڈور آئی وہ سب رومانی قسم کے لیڈر تھے۔ وہ سوشلسٹ سوسائٹی، نان الائینڈ مومنٹ، پبلک سیکٹر، مزدور نواز قوانین اور سماج واد جیسے خیالی افکار میں گم تھے۔ انہوں نے سڑک اور اس طرح کی دوسری چیزوں پر توجہ دینے کے بجائے اپنی خیالی دنیا کو قائم کرنے پر ساری طاقت لگادی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی خیالی دنیا تو بن نہ سکی کیوں کہ وہ بننے والی ہی نہ تھی۔ اور جو کام ممکن تھا وہ اس لئے انجام نہیں پایا کہ اس کے لئے انہوں نے حقیقی طور پر کام ہی نہیں کیا۔
راستہ میں ایک بہت لمبا پل آیا معلوم ہوا کہ یہ پل گنگاندی کے اوپر بنایا گیا ہے اور وہ تقریباً پانچ کلو میٹر لمبا ہے۔ یہ پل آزادی کے بعد بنایا گیا ہے۔ اس سے پہلے صرف کشتیوں کے ذریعہ سفر ہوا کرتا تھا۔ لمبا راستہ طے کرنے کے بعد موتی ہاری پہنچے تو رات ہو چکی تھی۔ یہاں رحمن ماڈل اکیڈمی میں پروگرام تھا۔ تعلیم یافتہ ہند و اور مسلمان بڑی تعداد میں اکٹھا ہوئے تھے۔ مگر ہمارے پہنچنے میں تین گھنٹے کی تاخیر ہو گئی۔ بہت سے لوگ انتظار کرنے کے بعد واپس ہو گئے تھے۔ تاہم یہاں ایک اجتماع ہوا اس میں بھی کافی لوگ شریک تھے۔ میں نے تعلیم کی اہمیت پر تقریر کی۔ موتی ہاری میں رحمن ماڈل اکیڈمی کے جلسے میں کئی اعلیٰ سرکاری افسران بھی شریک تھے۔ رحمن اکیڈمی کے بانی ڈاکٹر ایم۔ اے۔ رحمن ہیں۔ یہ تعلیمی ادارہ انہوں نے ۱۹۸۹ میں قائم کیا تھا۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ تعلیم کا مقصد صرف جاب حاصل کرنا یا پیسہ کمانا نہیں ہو تا بلکہ تعلیم کا اصل مقصد انسان کو باشعور بنانا ہے۔
ایک مسلم افسر نے بتایا کہ بہار میں سرکاری سروس میں ہندو مسلم کے درمیان امتیاز نہیں کیا جاتا۔ چنانچہ یہاں مسلم افسران کی تعداد کافی ہے۔ موتی ہاری سے رات میں روانہ ہو کر پٹنہ،
‹ Previous page Next page › Contents of October 2000 All issues