Forts, Legacies of the past.
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۰، صفحہ ۲۴
منشاٹولہ (جامع مسجد) پہنچا۔ یہاں کی زیر تعمیر مسجد میں ایک جلسہ رکھا گیا تھا۔ اس میں تعمیر ملت کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے ترقی کے تمام مواقع موجود ہیں۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ محنت کے ساتھ کام کیا جائے۔
منشانولہ کی مسجد میں تقریر کے بعد ہم لوگ شانتی ہوٹل گئے اور رات یہاں گزاری۔ ۲۶ مئی ۲۰۰۰ کی صبح کو ہمارا قافلہ ہوٹل سے روانہ ہو کر پٹیا کے یتیم خانہ میں پہنچا۔ یہ یتیم خانہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ ایک، لڑکوں کے لئے، اور دوسرا، لڑکیوں کے لئے۔ یتیم خانہ نہایت وسیع رقبہ میں قائم ہے اور تعمیر وغیرہ کے لحاظ سے کافی شاندار ہے۔ یتیم خانہ کے رجسٹر پر میں نے جو الفاظ لکھے وہ یہاں نقل کئے جاتے ہیں:
۲۵ مئی ۲۰۰۰ کو بتیا کا یتیم خانہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ میں نے اس کو اپنی امیدوں سے زیاوہ پایا۔ اللہ تعالیٰ اس ادارہ کو زیادہ سے زیادہ ترقی عطا فرمائے۔
کسی بچہ یا بچی کا یتیم ہونا کوئی برائی نہیں۔ یہ ایک نعمت ہے جو فطرت کی طرف سے کسی کو دی جاتی ہے۔ اگر یتیم ہونا نعمت نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ پیغمبر اسلام کے لئے یتیمی کا انتخاب نہ فرماتے۔ یتیم ہونا کسی بچہ یا بچی کے لئے قدرت کی طرف سے ایک خوشخبری ہے۔ اس بات کی خوشخبری کہ تم کو زندگی کے سفر کے لئے دہ کورس عطا کیا گیا ہے جو اس انسان کو عطا ہوا جس کے بارے میں نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم حضرات بھی اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ آپ ﷺ پوری تاریخ بشری کے سب سے زیادہ کامیاب انسان تھے۔
یتیم بچہ یا بچی کو پیدا ہونے کے بعد دنیا میں اپنے فطری امکان کو بروئے کار لانے کے لئے اور کیا چیز ملنی چاہئے اس کا اشارہ اس قرآنی آیت میں ملتا ہے۔
الم يجدك يتيماً فآوى (الانشراح)۔ یعنی اپنے آغاز حیات میں اپنی زندگی کی تعمیر کے لئے ایک ماوی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ یتیم خانہ اور اسی طرح تمام یتیم خانے اسی آیت کی عملی تفسیر ہیں۔ وہ یتیموں کو ماٰوی فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح کے کام کو میں اپنی زبان میں منصوبہ خداوندی
‹ Previous page Next page › Contents of October 2000 All issues