Al-Risala · October 2000 · page 25

Forts, Legacies of the past.

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۰، صفحہ ۲۵

سمجھتا ہوں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ بتیا کے اس یتیم خانہ کو حقیقی معنوں میں یتیموں کا مأویٰ بنائے اور اس کو زیادہ سے زیادہ ترقی عطا فرمائے۔

یتیم خانہ کے ایک طالب علم فصیح اختر (۱۷ سال) نے ایک نعت سنائی۔ غالباً یتیم نے ان کی آواز کو کافی پر اثر بنا دیا تھا۔ اس نعت کا ایک شعر یہ تھا:

پتھر کا کلیجہ بھی شق ہو فولاد بھی پانی پانی ہو اتنا ہے کلام رب میں اثر جو تم کو اثر معلوم نہیں یہ یتیم خانہ ۱۹۲۸ء سے قائم ہے۔ ایک صاحب نے اپنا قصہ بتاتے ہوئے کہا کہ بچپن میں میں یتیم ہو گیا تھا۔ میرے رشتہ داروں نے مجھے اس یتیم خانہ میں داخل کر دیا۔ میرے ساتھ دو یتیم بچے اور تھے۔ ہم تینوں نے یتیم بچوں کی حیثیت سے اس یتیم خانہ میں پرورش پائی۔ اس وقت بظاہر ہمارا کوئی مستقبل نہ تھا۔ مگر آج ہم تینوں اللہ کے فضل سے کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ آپ کے اسی یتیم ہونے کا نتیجہ ہے۔ یتیمی کی حالت بہترین حالت ہے۔ یتیمی آدمی کے اندر خود شناسی پیدا کرتی ہے۔ وہ آدمی کے اندر خود کفیل بننے کا جذبہ ابھارتی ہے۔ یتیم آدمی سمجھتا ہے کہ میرا کوئی سہارا نہیں، اس لئے مجھ کو خود ہی سارا عمل کرنا ہے۔ اس طرح وہ دوسرے سے زیادہ محنت کرنے لگتا ہے۔ یتیمی کے حالات آدمی کو ہیر و بنا دیتے ہیں۔ بتیا میں کئی لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ان میں سے ایک صاحب وہ تھے جن کی عمر ۳۰ سال تھی۔ ان کے والدین کا بچپن ہی میں انتقال ہو گیا۔ رشتہ داروں نے ان سے بڑی بے رخی برتی۔ حتی کہ ان کو معمولی مدرسہ میں داخل کر دیا۔ چنانچہ ان کا ابتدائی زمانہ تکلیفوں اور مصیبتوں میں گذرا۔ بے عزتی اس کے علاوہ تھی۔ اس کے بعد وہ کسی طرح بمبئی پہنچ گئے وہاں انہوں نے محنت کرنا شروع کیا یہاں تک کہ اب وہ ایک کامیاب انسان کی حیثیت سے زندگی گزار رہے ہیں۔ بچپن میں وہ بے سہارا اور یتیم تھے۔ اب وہ پورے معنوں میں ایک سلف میڈمین (self-made man) ہیں۔ گفتگو کے دوران میں نے محسوس کیا کہ ان کے سینہ میں لوگوں کے خلاف سخت شکایات ہیں۔ ان کا سینہ ماضی کی تلخی یادوں سے بھرا ہوا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2000 All issues

Printed page