Al-Risala · October 2000 · page 26

Forts, Legacies of the past.

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۰، صفحہ ۲۶

میں نے ان سے نصیحت کے طور پر دو باتیں کہیں۔ ایک بات یہ کہ یاد رکھیے، سب سے بڑی عبادت اللہ کا شاکر ہے۔ شکر بے حد لطیف چیز ہے۔ شکر اور نفرت دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔ جو آدمی شکر جیسی افضل عبادت کا انعام لینا چاہتا ہے اس کو چاہئے کہ وہ اپنے سینہ کو نفرت سے مکمل طور پر پاک رکھے۔ گندے برتن میں آپ دودھ رکھیں تو دودھ خراب ہو جائے گا۔ اسی طرح نفرت اور انتقام سے بھرے ہوئے سینہ میں شکر جیسے نورانی جذبہ کا جگہ پانا ممکن نہیں۔ دوسری بات ان سے میں نے یہ کہی کہ جن لوگوں نے آپ کو بچپن میں بے سہارا چھوڑ دیا، در اصل یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے آپ کو ترقی تک پہنچایا۔ فطرت کا یہ قانون ہے کہ جو آدمی اپنے آپ کو بے سہارا پائے اس کے اندر عمل کا بے پناہ جذبہ ابھر آتا ہے۔ زندگی کی مشکلات کسی انسان کے لئے مہمیز کا حکم رکھتی ہیں۔ اس دنیا میں ترقی کے درجہ تک وہی پہنچتا ہے جس کو زندگی میں جھٹکے لگتے ہیں، یہ گویا شک ٹریٹمنٹ کا معاملہ ہے۔ یعنی زحمت میں رحمت۔ مولانا قاری بدر الدین قاسمی (۲۹ سال) آج کل بمبئی میں رہتے ہیں۔ 4158145 .Tel ان سے بہت سی باتیں ہوئیں۔ ایک موقع پر میں نے کہا کہ اعلان حق کوئی مطلق چیز نہیں۔ اگر اعلان حق کوئی مطلق چیز ہوتی تو حدیث میں یہ نہ ہوتا کہ: من صمت نجا (جو چپ رہا اس نے نجات پائی) انہوں نے کہا کہ پھر اس حدیث کا کیا مطلب ہے جس کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: من رأى منكم منكراً فليغيره بيده فمن لم يستطع فبلسانه ومن لم يستطع فبقلبه و ذلك اضعف الایمان۔ میں نے کہا کہ اس حدیث کو سمجھنے میں عام طور پر سخت غلطی کی جاتی ہے۔ اس حدیث میں استطاعت کی شرط لگی ہوئی ہے۔ استطاعت کا مطلب اقدام کی استطاعت نہیں ہے، بلکہ نتیجہ کی استطاعت ہے۔ یعنی عملی اقدام یا لسانی اقدام کر کے اگر مطلوب نتیجہ بر آمد کرنا اپنے بس میں ہو تو اقدام کیا جائے گا ورنہ خاموشی اختیار کی جائے گی۔ اور صرف دعا پر اکتفا کیا جائے گا۔

بتایا میں کئی لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں ان میں سے ایک جناب محمد امیر اللہ صاحب تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2000 All issues

Printed page