Forts, Legacies of the past.
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۰، صفحہ ۲۷
انہوں نے کافی رقم خرچ کر کے ایک قابل قدر کام کیا ہے۔ یہ ایک قسم کے تعلیمی مسافر خانہ کا قیام ہے جو بس اسٹینڈ اور ریلوے اسٹیشن کے درمیان واقع ہے۔
بتیا میں جن لوگوں سے ملاقات ہوئی ان میں سے ایک مسٹر حیدر علی ہیں۔ ان کا پورا خاندان ابتدا سے الرسالہ کا قاری رہا ہے۔ ان کی والدہ جن کی عمر ۸۵ سال ہو گئی ہے، وہ اب بھی بغیر عینک کے الرسالہ پڑھتی ہیں۔ ان کی صاحبزادی صوفیہ حیدر جنہوں نے حال ہی میں بی۔ایس۔سی۔ کا کورس کیا ہے، نہایت اہتمام سے الرسالہ کا مطالعہ کرتی ہیں اور الرسالہ کا ہر شمارہ بار بار پڑھتی ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ الرسالہ مطبوعات کا برابر مطالعہ کر رہی ہیں۔ میں نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ زندگی میں سب سے اہم چیز حوصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے گھر والوں کو اور رشتہ داروں کو الرسالہ مطالعہ کے لئے دیتی ہوں مگر کم لوگ اس طرح کی سنجیدہ چیزوں کے مطالعہ میں دلچسپی لیتے ہیں۔ میں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ ان عظم الجزاء مع عزم البلاء یعنی جتنی زیادہ تکلیف کے ساتھ عمل کیا جائے اتناہی زیادہ اس کا ثواب ہوتا ہے۔ اس لئے آپ ایسے لوگوں کے بارے میں شکایت کے بجائے یہ سوچیں کہ وہ آپ کے ثواب میں اضافہ کر رہے ہیں۔
سفر سے واپسی کے بعد صوفیہ حیدر صاحبہ کا ایک خط ملا۔ اس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ” آپ کے دورہ کے بعد میرے حوصلوں میں کافی اضافہ ہو گیا ہے “۔ اب وہ زیادہ سرگرمی کے ساتھ خواتین میں الرسالہ مشن کو پھیلانے کا کام کر رہی ہیں۔
اس طرح مختلف لوگوں سے ملنے کے بعد ہم لوگ چن پیا پہنچے۔ یہاں جناب شفیع اختر صاحب (رستم بیڑی والے) کی رہائش گاہ پر ایک اجتماع ہوا۔ جس میں تعلیم یافتہ ہندو اور مسلمان بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ کئی ممتاز ہندو صاحبان بھی یہاں موجود تھے۔ اس موقع پر میں نے قومی یکجہتی کے موضوع پر تقریر کی۔ لوگوں نے اچھے تاثر کا اظہار کیا۔ اس اجتماع میں کچھ اخبار نویس بھی موجود تھے۔ تقریر کے بعد لوگوں سے مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2000 All issues