Forts, Legacies of the past.
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۰، صفحہ ۲۸
ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک بڑے شہر میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں الرساله مشن سے اتفاق رکھتا ہوں اور اس کے لئے عملی طور پر کچھ کرنا چاہتا ہوں۔ مگر ٹائم نہیں ملتا۔ میں نے کہا کہ یہ کسی ایک شخص کی بات نہیں۔ ہندوستان سے لے کر امریکہ تک آپ کو بے شمار ایسے لوگ ملیں گے جو کہیں گے کہ میں دین کے لئے کچھ کرنا چاہتا ہوں مگر ٹائم نہیں ملتا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ سو سال پہلے کوئی آدمی ایسا نہیں کہتا تھا حالاں کہ اس وقت بھی یہی ٹائم تھا۔ پہلے بھی اسی طرح ۲۴ گھنٹہ کے رات اور دن ہوتے تھے۔
اس فرق کی وجہ کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ پہلے ایک آدمی کو اپنا ٹائم دینے کے لئے زیادہ کھونا نہیں پڑتا تھا۔ اب اس کو ٹائم دینے کے لئے بہت زیادہ کھودینا پڑتا ہے۔ سکہ کی اصطلاح میں پہلے ٹائم کی قیمت بہت کم تھی اور اب سکہ کی اصطلاح میں ٹائم کی قیمت بہت بڑھ چکی ہے۔ یہی وہ فرق ہے جس کی بنا پر آج لوگ ٹائم کا عذر پیش کرتے ہیں۔ جب کہ ماضی میں وہ اس قسم کا عذر نہیں کرتے تھے۔
مزید غور کیجئے تو حقیقۃ ٹائم کا مسئلہ نہیں بلکہ حرص کا مسئلہ ہے۔ آج بھی لوگ اگر سادگی اور قناعت کو اپنا طریقہ بنائیں تو وہ تھوڑے ٹائم میں اتنی کمائی کر سکتے ہیں جو ان کی ضروریات زندگی کے لئے کافی ہو۔ مگر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ضرورتوں پر قانع نہیں۔ وہ اپنے سماجی اسٹیٹس کو بڑھانے کے لئے زیادہ سے زیادہ دولت کمانا چاہتے ہیں۔ اس لئے ٹائم کی ہر مقدار ان کے لئے ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ لوگوں کو حقیقت بیانی سے کام لے کر یہ کہنا چاہئے کہ ہم دینی مشن کو اتنا اہم نہیں سمجھتے کہ اس کے لئے ہم اپنا ٹائم دیں۔ ہمارے پاس ٹائم ہے مگر اس کا زیادہ بڑا استعمال ہمارے نزدیک کسب مال ہے۔
چن پیٹا سے روانہ ہو کر ہم لوگ ساٹھی پہنچے۔ یہاں مدرسہ ریاض العلوم واقع ہے۔ وہ ۱۹۴۶ میں قائم ہوا۔ وہ ترقی کرتے کرتے ایک بڑا تعلیمی ادارہ بن چکا ہے۔ اس میں لڑکوں کی تعلیم
‹ Previous page Next page › Contents of October 2000 All issues