Forts, Legacies of the past.
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۰، صفحہ ۲۹
کے ساتھ لڑکیوں کی تعلیم کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ آج جمعہ کا دن تھا۔ جمعہ کی نماز ریاض العلوم کی مسجد میں ادا کی۔ نماز کے بعد مسجد میں اجتماع ہوا۔ وسیع مسجد پوری طرح بھری ہوئی تھی۔ ریاض العلوم کی مسجد کی تقریر میں میں نے دینی تعلیم کی اہمیت اور مدارس دینیہ کے کردار پر خطاب کیا۔ یہ ایک تفصیلی خطاب تھا اس خطاب میں دوسری باتوں کے علاوہ میں نے ایک بات یہ کہی کہ بہت سے لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ اس ملک میں مدارس کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔ مدارس کے خلاف غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں۔ مدارس کے نظام کو تباہ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اس سلسلہ میں میں نے کہا کہ اس قسم کی مخالفانہ کوششیں ہر چیز کے خلاف اور ہمیشہ کی جاتی رہی ہیں۔
قرآن کے بیان کے مطابق، یہ دنیا عداوتوں کی دنیا ہے۔ ہمیں عداوتوں کے ماحول میں جینا ہے۔ اس کا حل صرف یہ ہے کہ ہم منفی رد عمل سے بچیں اور مثبت رد عمل کے ذریعہ ان حالات کا خاموش مقابلہ کریں۔ میں نے کہا، صحیح البخاری کی ایک روایت میں رسول اللہ نے فرمایا: ان الله يعطى على الرفق ما لا يعطى على العنف۔ اس حدیث میں یہ رہنمائی دی گئی ہے کہ مسائل کا مقابلہ اگر تشدد کے انداز میں کیا جائے تو صرف ناکامی ہمارے حصے میں آئے گی۔ اس کے برعکس اگر مسائل کا مقابلہ نرمی اور امن کے اسلوب میں کیا جائے تو کامیابی یقینی ہو جاتی ہے۔ جمعہ کے پروگرام کے بعد ریاض العلوم میں پریس کا نفرنس تھی اس میں دینک جاگرن ’’ہندستان‘‘ اور دوسرے اخباروں کے نمائندے موجود تھے۔ سوال و جواب کی صورت میں یہ کانفرنس دیر تک چلتی رہی۔
ایک ہندو اخبار نویس نے کہا کہ سارے مذہبوں کو ایک کیسے بنایا جائے۔ کیوں کہ جب تک سارے مذاہب ایک نہ ہو جائیں۔ ہمارے ملک میں فرقہ وارانہ اتحاد قائم نہیں ہو سکتا۔ میں نے کہا کہ اتحاد کا کوئی تعلق مذہبوں کو ایک کرنے سے نہیں ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ہر مذہب کے ماننے والوں کے درمیان آپس میں لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں۔ کورواور پانڈو دونوں کا
‹ Previous page Next page › Contents of October 2000 All issues