Al-Risala · October 2000 · page 30

Forts, Legacies of the past.

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۰، صفحہ ۳۰

مذہب ایک تھا ۔ اس کے باوجود دونوں میں خونیں جنگ ہوئی۔ بیسویں صدی کے نصف اول میں ہونے والی دو عالمی جنگوں میں دونوں فریق ایک ہی مذہب کو ماننے والے تھے۔ حال کی خلیجی جنگ دو ہم مذہب لوگوں کے درمیان ہوئی، وغیرہ۔

میں نے کہا کہ اتحاد کار از ٹالرنس ہے۔ اگر آپ کو ملک میں اتحاد لانا ہے تو مذہبوں کو بے فائدہ طور پر ایک کرنے کی بات نہ کیجئے۔ بلکہ لوگوں کو اختلاف کے باوجود متحد ہو کر رہنے کا سبق دیجئے۔ لوگوں سے کہئے کہ فرق و اختلاف فطرت کا لازمی حصہ ہے۔ دوسرے معاملات میں ایسا ہے کہ لوگ فرق اور اختلاف کے باوجود باہمی احترام کے اصول پر زندگی گزارتے ہیں۔ یہی اصول مذہب کے دائرہ میں بھی کار آمد ہے۔

ریاض العلوم ساتھی میں برابر لوگوں سے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ اور ان سے دینی اور ملی موضوعات پر تبادلہ خیال جاری رہا۔ ایک صاحب جو میرے ساتھ سفر میں شریک تھے، وہ شہری زندگی کے عادی ہیں۔ ہمارا سفر زیادہ تر دیہاتی علاقوں میں ہوا، جہاں اونچے نیچے راستے تھے۔ ہم کو طرح طرح کے پر مشقت معاملات سے سابقہ پیش آیا۔ اس تجر بہ سے وہ کچھ گھبرا گئے اور اس پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے سفر کے اس تجربہ کو پر تاسف (deplorable) قرار دیا۔ میں نے کہا کہ اسلام نام ہے ہر واقعہ سے مثبت اثر لینے کا۔ مثلاً یہ تکلیف دہ تجربات جو ہمارے ساتھ گذر رہے ہیں، اس سے ہم کو شکر کی غذا لینا چاہئے۔ کیوں کہ یہ ہمارے لئے صرف ایک وقتی مصیبت ہے، جب کہ وہ ان گاؤں والوں کے لئے مستقل مصیبت ہے۔ ہم کو سوچنا چاہئے کہ اللہ نے ہمارے ساتھ آسانی کا معاملہ فرمایاہے۔ ہم کو اس سخت امتحان میں نہیں ڈالا، جس میں گاؤں اور دیہات کے یہ لوگ پڑے ہوئے ہیں۔

۲۶ مئی کی شام کو مغرب کی نماز ریاض العلوم میں پڑھی گئی۔ اس کے بعد ہم لوگ آگے کے لئے روانہ ہوئے۔ سب سے پہلے مجھے ریاض العلوم کے تحت بننے والا لڑکیوں کا مدرسہ دکھایا گیا۔ یہ ایک کشادہ اور خوب صورت عمارت تھی۔ آج کل سارے ملک میں جگہ جگہ مسلم لڑکیوں

‹ Previous page Next page › Contents of October 2000 All issues

Printed page