Al-Risala · October 2000 · page 31

Forts, Legacies of the past.

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۰، صفحہ ۳۱

لڑکیوں کی تعلیم پر خدشات ظاہر کر رہے ہیں۔ حال میں ایک صاحب نے مجھ سے کہا کہ جو لڑکیاں عالمہ اور فاضلہ بن رہی ہیں ان میں طلاق کی شرح دوسری لڑکیوں سے زیادہ ہے۔ اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ ان تعلیم یافتہ مسلم لڑکیوں کو آسانی سے سروس مل جاتی ہے اس لئے ان کے اندر شوہر کے تابع نہ رہنے کا ہی مزاج پیدا ہو رہا ہے جو مغربی سماج کی لڑکیوں میں اسی سبب سے پایا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے اس سے بحث نہیں کہ آپ کی یہ اطلاع درست ہے یا نہیں۔ میرے نزدیک زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس دنیا میں نہ سارے مرد معیاری ہوتے ہیں اور نہ ساری عورتیں۔ آپ پڑھائیں یا نہ پڑھائیں اس دنیا میں کبھی بھی نہ تمام خواتین معیاری خواتین بن جائیں گی اور نہ تمام مرد معیاری مرد۔

راستہ میں ہم لوگ جناب جمال الدین صاحب کے دفتر پر رکے۔ ان کی تعلیم صرف نویں کلاس تک ہوئی ہے۔ پہلے ان کی معاشی حالت بہت معمولی تھی، مگر اب وہ ایک کامیاب بزنس چلا رہے ہیں۔ میں نے انہیں دو نصیحتیں کیں۔ ایک یہ کہ اللہ اگر کسی کو پیسہ دے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ عیش کی زندگی گزارنے لگے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ بقدر ضرورت پر قناعت کرے اور بقیہ پیسے کو اچھے کاموں میں خرچ کرے۔

دوسری نصیحت یہ کی کہ وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائے۔ تعلیم میں ہر گز کمی نہ کرے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک باپ اپنے بچے کو سب سے بہتر جو چیز دے سکتا ہے وہ اچھی تعلیم ہے۔ جمال الدین صاحب کے یہاں تھوڑی دیر ٹھہرنے کے بعد ہم لوگ آگے بڑھے۔ رات ہو چکی تھی۔ ہم لوگوں کو سرسیا پہنچنا تھا۔ یہ پورا راستہ تجربات کا ایک سلسلہ تھا۔ ایک جگہ ہماری گاڑی کو ندی کے راستہ سے گزرنا پڑا۔ بارش ہو نے کی وجہ سے راستہ میں جگہ جگہ گڑھے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ راستہ کار کے ذریعہ نہیں بلکہ ٹریکٹر کے ذریعہ طے ہو رہا ہے۔ میں نے کہا کہ اس دنیا میں ہماری زندگی شروع سے آخر تک ایک امتحان ہے۔ اس امتحان کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ

‹ Previous page Next page › Contents of October 2000 All issues

Printed page